سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب : لا يحرم الحرام الحلال
باب: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 2015
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7736، ومصباح الزجاجة: 715) (ضعیف)» (سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 385 - 388)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الفروي: ضعيف يعتبر به (التحرير: 381) ضعفه الجمهور
وباقي السند حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
إسناده ضعيف
الفروي: ضعيف يعتبر به (التحرير: 381) ضعفه الجمهور
وباقي السند حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 450
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2015
| لا يحرم الحرام الحلال |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2015 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2015
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے، تاہم دیگر دلائل اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک صحیح السند اثر کی رو سے، جس میں آتا ہے کہ (ان وطء الحرام لا یحرم)
(إرواءالغلیل: 6؍287)
”زناکاری، کسی حلال کو حرام نہیں کرےگی۔“
اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے بدکاری کا ارتکاب کرے تو اس کی وجہ سے اس عورت سے نکاح کرنا حرام نہیں ہوجائے گا، نہ اس ناجائز حرکت کی وجہ سے اس عورت کی ماں اس مرد پر ساس کی طرح حرام ہوجائے گی، نہ اس عورت کی بیٹی سوتیلی بیٹی کی طرح حرام ہوجائے گی۔
اسی طرح مرد اگر اپنی ساس یا سوتیلی بیٹی سے منہ کالا کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی کیونکہ یہ تعلق شرعاً ”میاں بیوی“ کا تعلق نہیں اور مذکورہ بالا احکام کا تعلق ”بیوی“ سے ہے۔
بدکاری کا گناہ اور اس پر سزا کا مستحق ہونا دوسری چیز ہے اور حرام ہونا دوسری چیز ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھئے: (تفسیر احسن البیان، از حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ، سورۃ نساء، آیت: 32)
فوائد و مسائل:
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے، تاہم دیگر دلائل اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک صحیح السند اثر کی رو سے، جس میں آتا ہے کہ (ان وطء الحرام لا یحرم)
(إرواءالغلیل: 6؍287)
”زناکاری، کسی حلال کو حرام نہیں کرےگی۔“
اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے بدکاری کا ارتکاب کرے تو اس کی وجہ سے اس عورت سے نکاح کرنا حرام نہیں ہوجائے گا، نہ اس ناجائز حرکت کی وجہ سے اس عورت کی ماں اس مرد پر ساس کی طرح حرام ہوجائے گی، نہ اس عورت کی بیٹی سوتیلی بیٹی کی طرح حرام ہوجائے گی۔
اسی طرح مرد اگر اپنی ساس یا سوتیلی بیٹی سے منہ کالا کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی کیونکہ یہ تعلق شرعاً ”میاں بیوی“ کا تعلق نہیں اور مذکورہ بالا احکام کا تعلق ”بیوی“ سے ہے۔
بدکاری کا گناہ اور اس پر سزا کا مستحق ہونا دوسری چیز ہے اور حرام ہونا دوسری چیز ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھئے: (تفسیر احسن البیان، از حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ، سورۃ نساء، آیت: 32)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2015]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي