سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : الرجعة
باب: طلاق سے رجوع ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2025
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَلَا عَلَى رَجْعَتِهَا؟، فَقَالَ عِمْرَانُ :" طَلَّقْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ، وَرَاجَعْتَ بِغَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى طَلَاقِهَا وَعَلَى رَجْعَتِهَا".
مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس سے جماع کرے، اور اپنی طلاق اور رجعت پہ کسی کو گواہ نہ بنائے؟ تو عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے سنت کے خلاف طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت پہ گواہ بناؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 5 (2186)، (تحفة الأشراف: 10860) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گواہی ان دونوں کے لئے شرط نہیں، ہاں مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2025 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2025
اردو حاشہ:
فائده:
جس طرح نکاح کےموقع پر گواہوں کا تقرر ہوتا ہے، اسی طرح طلاق اور رجوع بھی گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
فائده:
جس طرح نکاح کےموقع پر گواہوں کا تقرر ہوتا ہے، اسی طرح طلاق اور رجوع بھی گواہوں کی موجودگی میں ہونا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2025]
Sunan Ibn Majah Hadith 2025 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عمران بن حصين الأزدي