سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : الحامل المتوفى عنها زوجها إذا وضعت حلت للأزواج
باب: حاملہ عورت کا شوہر مر جائے تو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہو جائے گی اور اس کے بعد اس سے شادی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2027
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ ، قَالَ: وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بِنْتُ الْحَارِثِ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِبِضْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَشَوَّفَتْ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، وَذُكِرَ أَمْرُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ مَضَى أَجَلُهَا".
ابوسنابل کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات کے بیس سے کچھ زائد دنوں بعد بچہ جنا، جب وہ نفاس سے پاک ہو گئیں تو شادی کی خواہشمند ہوئیں، تو یہ معیوب سمجھا گیا، اور اس کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت گزر گئی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2027]
حضرت ابو سنابل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کے خاوند کی وفات کے بیس دن یا چند دن بعد ولادت ہو گئی۔ جب وہ نفاس سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے نکاح کا ارادہ ظاہر کیا، اس پر لوگوں نے تنقید کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ان کے اس کام کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتی ہے تو (جائز ہے کیونکہ) اس کی عدت گزر چکی ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطلاق 17 (1193)، سنن النسائی/الطلاق 56 (3549)، (تحفة الأشراف: 12053)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/305)، سنن الدارمی/الطلاق 11 (2327) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1193
| إن تفعل فقد حل أجلها |
سنن ابن ماجه |
2027
| إن تفعل فقد مضى أجلها |
سنن النسائى الصغرى |
3538
| وضعت سبيعة حملها بعد وفاة زوجها بثلاثة وعشرين أو خمسة وعشرين ليلة فلما تعلت تشوفت للأزواج فعيب ذلك عليها فذكر ذلك لرسول الله فقال ما يمنعها قد انقضى أجلها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2027 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2027
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔
یہ مسئلہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ﴾ (الطلاق 65: 4)
”اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضح حمل ہے۔“
(2)
حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کے طرز عمل کو صحیح نہ سمجھنے والے خود حضرت ابو سنابل تھے۔
ان کی رائے یہ تھی کہ اگر چار ماہ دس دن کی مدت گزرنے سے پہلے ولادت ہو جائے تو عدت چار ماہ دس دن تک گزارنی چاہیے۔
عدت وضع حمل تک صرف اس صورت میں ہوگی جب وضع حمل کی مدت چار ماہ دس دن سے زائد ہو جیسے کہ اگلی حدیث میں بیان ہے۔
(3)
پہلے حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہی محسوس کیا تھا کہ حضرت ابوسنابل کی رائے صحیح ہے لیکن نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی عدت ختم ہوچکی ہے۔ (دیکھئے، حدیث: 2028)
فوائد و مسائل:
(1)
حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔
یہ مسئلہ قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ﴾ (الطلاق 65: 4)
”اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضح حمل ہے۔“
(2)
حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا کے طرز عمل کو صحیح نہ سمجھنے والے خود حضرت ابو سنابل تھے۔
ان کی رائے یہ تھی کہ اگر چار ماہ دس دن کی مدت گزرنے سے پہلے ولادت ہو جائے تو عدت چار ماہ دس دن تک گزارنی چاہیے۔
عدت وضع حمل تک صرف اس صورت میں ہوگی جب وضع حمل کی مدت چار ماہ دس دن سے زائد ہو جیسے کہ اگلی حدیث میں بیان ہے۔
(3)
پہلے حضرت سبیعہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہی محسوس کیا تھا کہ حضرت ابوسنابل کی رائے صحیح ہے لیکن نبئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی عدت ختم ہوچکی ہے۔ (دیکھئے، حدیث: 2028)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2027]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1193
شوہر کی وفات کے بعد بچہ جننے والی عورت کی عدت کا بیان۔
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے شوہر کی موت کے تئیس یا پچیس دن بعد بچہ جنا، اور جب وہ نفاس سے پاک ہو گئی تو نکاح کے لیے زینت کرنے لگی، اس پر اعتراض کیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتی ہے (تو حرج کی بات نہیں) اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1193]
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے شوہر کی موت کے تئیس یا پچیس دن بعد بچہ جنا، اور جب وہ نفاس سے پاک ہو گئی تو نکاح کے لیے زینت کرنے لگی، اس پر اعتراض کیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ ایسا کرتی ہے (تو حرج کی بات نہیں) اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1193]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ سند میں انقطاع ہے جسے مولف نے بیان کر دیا ہے)
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ورنہ سند میں انقطاع ہے جسے مولف نے بیان کر دیا ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1193]
Sunan Ibn Majah Hadith 2027 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← أبو السنابل بن بعكك القرشي