🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : هل تخرج المرأة في عدتها
باب: کیا عورت عدت میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2034
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ، أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بَلَى، فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2034]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میری خالہ کو طلاق ہو گئی، انہوں نے اپنے کھجوروں کے درختوں کا پھل اتارنا چاہا۔ ایک آدمی نے انہیں گھر سے نکل کر (باغ میں) جانے سے منع کیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور مسئلہ پوچھا۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اپنی کھجوروں کا پھل اتار لو، شاید تم صدقہ کرو یا کوئی نیکی کا کام کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 7 (1481)، سنن ابی داود/الطلاق 41 (2297)، سنن النسائی/الطلاق 71 (3580)، (تحفة الأشراف: 2799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/321)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2334) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو عورت طلاق کی عدت میں ہو اس کا گھر سے نکلنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن منصور الرمادي، أبو بكر
Newأحمد بن منصور الرمادي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة حافظ
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← أحمد بن منصور الرمادي
ثقة
👤←👥سفيان بن وكيع الرؤاسي، أبو محمد
Newسفيان بن وكيع الرؤاسي ← روح بن عبادة القيسي
مقبول
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3580
اخرجي فجدي نخلك لعلك أن تصدقي وتفعلي معروفا
صحيح مسلم
3721
بلى فجدي نخلك فإنك عسى أن تصدقي أو تفعلي معروفا
سنن أبي داود
2297
اخرجي فجدي نخلك لعلك أن تصدقي منه أو تفعلي خيرا
سنن ابن ماجه
2034
بلى فجدي نخلك فإنك عسى أن تصدقي أو تفعلي معروفا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2034 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2034
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  اگر کوئی ایسی ضرورت پیش آ جائے جس کے لیے عورت کا گھر سے نکلنا ضروری ہوتو عدت میں بھی گھر سے نکل سکتی ہے۔

(2)
  حضرت جابر کی خالہ اگر باغ کا پھل نہ اترواتیں تو پھل ضائع ہو جاتا، لہٰذا فصل ضائع ہونے سے بچانے کےلیے انہیں گھر سے نکلنا پڑا۔

(3)
  نیکی کے کام سے بعض علماء نے فرض زکاۃ کی ادائیگی مراد لیے ہے، یعنی پھل گھر آئے گا تو تم زکاۃ دوگی اور صدقہ کروگی تو اس سے تمہیں ثواب ہوگا اور غریبوں کو فائدہ ہوگا، نیز باقی کھجوریں سال بھر تمہارے کا آئیں گی؟ اس لیے گھر سے نکلنے کے لیے یہ معقول وجہ ہے۔

(4)
  چھوٹے موٹے کام کےلیے نہیں جانا چاہیے کیونکہ یہ کام ایسے نہیں جواس کےلیے انتہائی ضروری ہوں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2034]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3580
جس کا شوہر مر گیا ہو کیا وہ (دوران عدت) دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہو گئی (اسی دوران) انہوں نے اپنے کھجوروں کے باغ میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے انہیں باغ میں جانے سے روکا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں (آپ سے اس بارے میں پوچھا) تو آپ نے فرمایا: تم اپنے باغ میں جا سکتی ہو، توقع ہے (جب تم اپنے باغ میں جاؤ گی، پھل توڑو گی تو) تم صدقہ کرو گی اور (دوسرے) اچھے بھلے کام کرو گی۔‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3580]
اردو حاشہ:
ضرورت ہو تو سوگ والی عورت گھر اور کھیت میں کام کرسکتی ہے۔ ممکن ہے کوئی اور کام کرنے والا نہ ہو۔ شریعت لوگوں کی ضروریات اور مجبوریوں کا بہت لحاظ رکھتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3580]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2297
تین طلاق دی ہوئی عورت دن میں باہر نکل سکتی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہو سکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2297]
فوائد ومسائل:
مطلقہ عورت اپنے ایام عدت میں کسی لازمی اور مناسب کا م کے لئے گھر سے باہر جا سکتی ہے، مگر ضروری ہے کہ رات کو اپنے گھر واپس آجائے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2297]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3721
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، الفاظ ہارون بن عبداللہ کے ہیں، کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں میری خالہ کو طلاق مل گئی، تو اس نے نخلستان سے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا۔ تو اسے ایک آدمی نے گھر سے نکلنے پر ڈانٹا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، اپنی کھجوریں توڑ، کیونکہ ہو سکتا ہے، تم صدقہ کرو یا کوئی اور نیکی کرو۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3721]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عدت وفات میں آئمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک عورت دن کے وقت اپنے گھر سے نکل سکتی ہے اور عدت طلاق میں بھی آئمہ ثلاثہ مالک رحمۃ اللہ علیہ،
شافعی رحمۃ اللہ علیہ،
احمد رحمۃ اللہ علیہ،
اور بعض دوسرے فقہاء کے نزدیک عورت ضرورت کے تحت گھر سے نکل سکتی ہے جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نہیں نکل سکتی کیونکہ قرآن مجید کا حکم ہے:
﴿وَلَا يَخْرُجْنَ﴾ وہ نہ نکلیں حالانکہ یہاں نکلنے سے مراد خاوند کےگھر سے چلے جانا ہے مزید برآں عدت وفات میں احناف نکلنے کی اجازت اس لیے دیتے ہیں کہ بیوی کا نان و نفقہ خاوند کے ذمہ نہیں ہے۔
اس لیے وہ نفقہ کی تلاش میں دن کو نکل سکتی ہے۔
اسی طرح طلاق بائن کی صورت میں بھی نفقہ خاوند کے ذمہ نہیں ہے۔
جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور آئمہ ثلاثہ کا یہی موقف ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3721]

Sunan Ibn Majah Hadith 2034 in Urdu