سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : طلاق المكره والناسي
باب: زبردستی یا بھول سے دی گئی طلاق کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2043
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ".
ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک، اور جس کام پہ تم مجبور کر دیئے جاؤ معاف کر دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11922) (صحیح)» (سند میں ابو بکرالہذلی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: جب اللہ تعالی نے اس کو معاف کیا، اور دنیا کے احکام میں معافی ہو گئی، تو جب اس نے بھولے سے طلاق دی یا مجبوری کی حالت میں تو طلاق نہ پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذر | صحابي | |
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد شهر بن حوشب الأشعري ← أبو ذر الغفاري | صدوق كثير الإرسال والأوهام | |
👤←👥سلمى بن عبد الله الهذلي، أبو بكر سلمى بن عبد الله الهذلي ← شهر بن حوشب الأشعري | متروك الحديث | |
👤←👥أيوب بن سويد الرملي، أبو مسعود أيوب بن سويد الرملي ← سلمى بن عبد الله الهذلي | ضعيف الحديث | |
👤←👥إبراهيم بن محمد المقدسي، أبو إسحاق إبراهيم بن محمد المقدسي ← أيوب بن سويد الرملي | صدوق يخطئ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2043
| الله تجاوز عن أمتي الخطأ النسيان ما استكرهوا عليه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2043 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2043
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
غلطی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص ایک کام کرنا چاہتا تھا، بلا ارادہ وہ کام غلط ہوگیا، اسے گناہ نہیں ہوگا، تاہم کیے ہوئے کا م کو دوبارہ صحیح انداز سے انجام دینا، یا اس کی مناسب طریقے سے تلافی کرنا ضروری ہے۔
(2)
بھول کا مطلب ہے کہ کام کرنے والے کو یاد نہ رہے، مثلاً:
نماز کا وقت ہوجانے پر وہ کسی کام میں مشغول تھا جس کی وجہ سے دیر ہوگئی۔
جب فارغ ہوا تو اسے یاد نہ رہا کہ نماز نہیں پڑھی، یا روزہ رکھ کر کھا پی لیا کیونکہ اسے یاد نہیں رہا تھا کہ وہ روزے سے ہے، یا کسی سے کوئی وعدہ کیا تھا، جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو یاد نہ رہا، اس لیے وقت پروعدہ پورا نہ ہوسکا، تواس تاخیر وغیرہ کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
(3)
جب کسی کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر کوئی ناجائز کام کروایا جائے، یا کسی ناقابل برداشت نقصان پہنچانے کی دھمکی دے کر ایساکام کرنے پر مجبور کردیا جائے جو وہ کرنا نہیں چاہتا تو وہ کام کرنے والا گناہ گار نہیں ہوگا، مجبور کرنے والے پر اس غلط کام کا گناہ بھی ہوگا اور زبردستی کرنےکا گناہ بھی ہوگا۔
(4)
اگر کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، وہ اپنی جان بچانے کےلیے طلاق کے الفاظ بول دے، یا لکھ دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی جیسے کہ حدیث 2046 میں صراحت ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
غلطی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص ایک کام کرنا چاہتا تھا، بلا ارادہ وہ کام غلط ہوگیا، اسے گناہ نہیں ہوگا، تاہم کیے ہوئے کا م کو دوبارہ صحیح انداز سے انجام دینا، یا اس کی مناسب طریقے سے تلافی کرنا ضروری ہے۔
(2)
بھول کا مطلب ہے کہ کام کرنے والے کو یاد نہ رہے، مثلاً:
نماز کا وقت ہوجانے پر وہ کسی کام میں مشغول تھا جس کی وجہ سے دیر ہوگئی۔
جب فارغ ہوا تو اسے یاد نہ رہا کہ نماز نہیں پڑھی، یا روزہ رکھ کر کھا پی لیا کیونکہ اسے یاد نہیں رہا تھا کہ وہ روزے سے ہے، یا کسی سے کوئی وعدہ کیا تھا، جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آیا تو یاد نہ رہا، اس لیے وقت پروعدہ پورا نہ ہوسکا، تواس تاخیر وغیرہ کا کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
(3)
جب کسی کو جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر کوئی ناجائز کام کروایا جائے، یا کسی ناقابل برداشت نقصان پہنچانے کی دھمکی دے کر ایساکام کرنے پر مجبور کردیا جائے جو وہ کرنا نہیں چاہتا تو وہ کام کرنے والا گناہ گار نہیں ہوگا، مجبور کرنے والے پر اس غلط کام کا گناہ بھی ہوگا اور زبردستی کرنےکا گناہ بھی ہوگا۔
(4)
اگر کسی کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، وہ اپنی جان بچانے کےلیے طلاق کے الفاظ بول دے، یا لکھ دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی جیسے کہ حدیث 2046 میں صراحت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2043]
شهر بن حوشب الأشعري ← أبو ذر الغفاري