🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب : من سن سنة حسنة أو سيئة
باب: (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 205
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا، وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 851، ومصباح الزجاجة: 75)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 38 (3228)، سنن الدارمی/المقدمة 44 (530) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں سعد بن سنان ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: شرک و بدعت، شرع میں حرام و ناجائز چیزیں اور فسق و فجور کی ساری باتیں گمراہی میں داخل ہیں کہ اس کی طرف دعوت دینے والے پر اس کے متبعین کا بھی عذاب ہو گا، اور خود وہ اپنے گناہوں کی سزا بھی پائے گا، اور ہدایت میں توحید و اتباع سنت اور ساری سنن و واجبات و فرائض داخل ہیں، اس کی طرف دعوت دینے والے کو ان باتوں کے ماننے والوں کا ثواب ملے گا، اور خود اس کے اپنے اعمال حسنہ کا ثواب، اس لئے داعی الی اللہ کے لئے جہاں یہ اور اس طرح کی حدیث میں فضیلت ہے وہاں علمائے سوء اور دعاۃ باطل کے لئے سخت تنبیہ بھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥سعد بن سنان الكندي
Newسعد بن سنان الكندي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق له أفراد
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← سعد بن سنان الكندي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عيسى بن حماد التجيبي، أبو موسى
Newعيسى بن حماد التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
205
أيما داع دعا إلى ضلالة فاتبع فإن له مثل أوزار من اتبعه ولا ينقص من أوزارهم شيئا أيما داع دعا إلى هدى فاتبع فإن له مثل أجور من اتبعه ولا ينقص من أجورهم شيئا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 205 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث205
اردو حاشہ:
گمراہی سے شرک، بدعت، فسق و فجور اور وہ تمام کام مراد ہیں جو شریعت میں منع اور حرام ہیں۔
جو کسی ایسے کام کی طرف بلائے یا ترغیب دے یا تعاون کرے، اسے اتنا گناہ ہو گا جتنا اس کی وجہ سے اس غلط کام کا ارتکاب کرنے والے تمام لوگوں کو مجموعی طور پر ہو گا۔
اور ہدایت سے مراد توحید، اتباع سنت، واجبات کی ادائیگی اور گناہ سے اجتناب وغیرہ جیسے اعمال ہیں۔
ان کی دعوت دینے والے کو اتنا ہی ثواب ہو گا جتنا اس سے متاثر ہو کر اس نیکی کا کام کرنے والے تمام افراد کو مجموعی طور پر ہو گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 205]