سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : الإيلاء
باب: ایلاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 2061
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلَى مِنْ بَعْضِ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ رَاحَ أَوْ غَدَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11 (1910)، صحیح مسلم/الصیام 4 (1085)، (تحفة الأشراف: 18201)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2061 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2061
اردو حاشہ:
فائدہ:
”مہینہ انتیس دن کا ہے۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔
اگر تیس دن کا ہوتا تو میں ایک دن مزید رک جاتا۔
فائدہ:
”مہینہ انتیس دن کا ہے۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔
اگر تیس دن کا ہوتا تو میں ایک دن مزید رک جاتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2061]
عكرمة بن عبد الرحمن المخزومي ← أم سلمة زوج النبي