سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : النهي أن يحلف بغير الله
باب: اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِكُمْ".
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2095]
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتوں کی قسمیں نہ کھایا کرو، اور نہ باپ دادا کی قسمیں کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الایمان 2 (1648)، سنن النسائی/الأیمان 9 (3805)، (تحفة الأشراف: 9697)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/62) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن سمرة القرشي، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3805
| لا تحلفوا بآبائكم ولا بالطواغيت |
صحيح مسلم |
4262
| لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم |
سنن ابن ماجه |
2095
| لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2095 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2095
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
(طواغي)
کا واحد (طاغیة)
ہے، یعنی سرکش۔
بت کو طاغیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بندوں کے شرک اور سرکشی کا باعث بنتا ہے۔
(2)
بت کی قسم اصل میں اس شخص کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کھائی جاتی ہے جس کی صورت پر وہ بت بنایا گیا ہے، اس طرح یہ بھی اصل میں بزرگوں اور پیروں کی قسم ہے۔
اور غیراللہ کی قسم حرام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
(طواغي)
کا واحد (طاغیة)
ہے، یعنی سرکش۔
بت کو طاغیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بندوں کے شرک اور سرکشی کا باعث بنتا ہے۔
(2)
بت کی قسم اصل میں اس شخص کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کھائی جاتی ہے جس کی صورت پر وہ بت بنایا گیا ہے، اس طرح یہ بھی اصل میں بزرگوں اور پیروں کی قسم ہے۔
اور غیراللہ کی قسم حرام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2095]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3805
طاغوت اور جھوٹے معبودوں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں (جھوٹے معبودوں) کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3805]
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں (جھوٹے معبودوں) کی۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3805]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3800۔
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3800۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3805]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4262
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بتوں اور اپنے باپوں کی قسم نہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4262]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
طاغیہ سے مراد صنم اور بت ہے،
کیونکہ،
وہ کفار کے شرک و سرکشی کا سبب ہے،
اور طغیان کا معنی حدود سے تجاوز کرنا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿لَمَّا طَغَى الْمَاءُ﴾ جب پانی حد سے بڑھ گیا،
اس لیے اس کا اطلاق تمام معبودان باطلہ پر ہو جاتا ہے،
اس لیے ضلالت کا ہر سرغنہ طاغیہ ہے،
مقصود یہی ہے،
معبودان باطلہ کی قسم نہ اٹھاؤ،
اور قسم کی تین قسمیں ہیں۔
(1)
يمين غموس:
شعوری طور پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا ہے،
جو انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
(2)
يمين لغو:
یعنی وہ قسم جو انسان کی زبان پر چڑھی ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے،
یا انسان اپنے شعور اور علم کے مطابق سچی قسم اٹھائے،
جبکہ درحقیقت،
وہ جھوٹی ہو،
(3)
يمين منعقده:
آئندہ زمانہ یا مستقبل کے بارے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا،
اس کا پورا کرنا ضروری ہے،
اگر گناہ نہ ہو،
وگرنہ کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
طاغیہ سے مراد صنم اور بت ہے،
کیونکہ،
وہ کفار کے شرک و سرکشی کا سبب ہے،
اور طغیان کا معنی حدود سے تجاوز کرنا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿لَمَّا طَغَى الْمَاءُ﴾ جب پانی حد سے بڑھ گیا،
اس لیے اس کا اطلاق تمام معبودان باطلہ پر ہو جاتا ہے،
اس لیے ضلالت کا ہر سرغنہ طاغیہ ہے،
مقصود یہی ہے،
معبودان باطلہ کی قسم نہ اٹھاؤ،
اور قسم کی تین قسمیں ہیں۔
(1)
يمين غموس:
شعوری طور پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا ہے،
جو انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
(2)
يمين لغو:
یعنی وہ قسم جو انسان کی زبان پر چڑھی ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے،
یا انسان اپنے شعور اور علم کے مطابق سچی قسم اٹھائے،
جبکہ درحقیقت،
وہ جھوٹی ہو،
(3)
يمين منعقده:
آئندہ زمانہ یا مستقبل کے بارے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا،
اس کا پورا کرنا ضروری ہے،
اگر گناہ نہ ہو،
وگرنہ کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4262]
Sunan Ibn Majah Hadith 2095 in Urdu
الحسن البصري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي