🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب من حلف باللات والعزى فليقل لا إله إلا الله:
باب: جو لات و عزی کی قسم کھائے اس کو لا الہ الا اللہ پڑھنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1648 ترقیم شاملہ: -- 4262
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِكُمْ ".
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بتوں کی قسم نہ کھاؤ، نہ ہی اپنے آباء و اجداد کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4262]
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتوں اور اپنے باپوں کی قسم نہ اٹھاؤ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4262]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن سمرة القرشي، أبو سعيدصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عبد الرحمن بن سمرة القرشي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري
ثقة حافظ
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3805
لا تحلفوا بآبائكم ولا بالطواغيت
صحيح مسلم
4262
لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم
سنن ابن ماجه
2095
لا تحلفوا بالطواغي ولا بآبائكم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4262 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4262
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
طاغیہ سے مراد صنم اور بت ہے،
کیونکہ،
وہ کفار کے شرک و سرکشی کا سبب ہے،
اور طغیان کا معنی حدود سے تجاوز کرنا ہے،
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ﴿لَمَّا طَغَى الْمَاءُ﴾ جب پانی حد سے بڑھ گیا،
اس لیے اس کا اطلاق تمام معبودان باطلہ پر ہو جاتا ہے،
اس لیے ضلالت کا ہر سرغنہ طاغیہ ہے،
مقصود یہی ہے،
معبودان باطلہ کی قسم نہ اٹھاؤ،
اور قسم کی تین قسمیں ہیں۔
(1)
يمين غموس:
شعوری طور پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھانا ہے،
جو انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔
(2)
يمين لغو:
یعنی وہ قسم جو انسان کی زبان پر چڑھی ہونے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر نکل جاتی ہے،
یا انسان اپنے شعور اور علم کے مطابق سچی قسم اٹھائے،
جبکہ درحقیقت،
وہ جھوٹی ہو،
(3)
يمين منعقده:
آئندہ زمانہ یا مستقبل کے بارے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم اٹھانا،
اس کا پورا کرنا ضروری ہے،
اگر گناہ نہ ہو،
وگرنہ کفارہ ادا کرنا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4262]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3805
طاغوت اور جھوٹے معبودوں کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، اور نہ طاغوتوں (جھوٹے معبودوں) کی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3805]
اردو حاشہ:
تفصیل کے لیے دیکھیے حدیث نمبر 3800۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3805]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2095
اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت۔
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2095]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  (طواغي)
کا واحد (طاغیة)
ہے، یعنی سرکش۔
بت کو طاغیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ بندوں کے شرک اور سرکشی کا باعث بنتا ہے۔

(2)
  بت کی قسم اصل میں اس شخص کی اہمیت اور تعظیم کی وجہ سے کھائی جاتی ہے جس کی صورت پر وہ بت بنایا گیا ہے، اس طرح یہ بھی اصل میں بزرگوں اور پیروں کی قسم ہے۔
اور غیراللہ کی قسم حرام ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2095]

Sahih Muslim Hadith 4262 in Urdu