🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : فضل من تعلم القرآن وعلمه
باب: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! اگر تم صبح کو قرآن کی ایک آیت بھی سیکھ لو تو تمہارے لیے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے، اور اگر تم صبح علم کا ایک باب سیکھو خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ایک ہزار رکعت پڑھو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 219]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ابو ذر! اگر تو صبح کو (علم سیکھنے کے لیے) نکلے اور اللہ کی کتاب کی ایک آیت سیکھ لے، یہ تیرے لیے سو رکعت (نفل) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ اور اگر تو صبح نکل کر علم کا ایک باب سیکھ لے، خواہ اس پر عمل کر سکے یا نہ کر سکے، یہ تیرے لیے ہزار رکعت (نفل) نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 219]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11918، ومصباح الزجاجة: 80) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں عبداللہ بن زیاد مجہول اور علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تفقہ قراءت سے افضل ہے، اور وہ دونوں ادائے نوافل سے افضل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد: ضعيف
و عبد اللّٰه بن زياد البحراني وعبد اللّٰه بن غالب العباداني: مستوران (تقريب: 3328 3527)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو ذر الغفاري
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← سعيد بن المسيب القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن زياد بن درهم، أبو العلاء
Newعبد الله بن زياد بن درهم ← علي بن زيد القرشي
مجهول
👤←👥عبد الله بن غالب العباداني
Newعبد الله بن غالب العباداني ← عبد الله بن زياد بن درهم
مقبول
👤←👥العباس بن عبد الله الترقفي، أبو محمد، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد الله الترقفي ← عبد الله بن غالب العباداني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
219
لأن تغدو فتعلم آية من كتاب الله خير لك من أن تصلي مائة ركعة ولأن تغدو فتعلم بابا من العلم عمل به أو لم يعمل خير لك من أن تصلي ألف ركعة
Sunan Ibn Majah Hadith 219 in Urdu