🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : النهي عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر
باب: بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5967)، ومصباح الزجاجة: 771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/302) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥أيوب بن عتبة اليمامي، أبو يحيى
Newأيوب بن عتبة اليمامي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ضعيف الحديث
👤←👥الأسود بن عامر الشامي، أبو عبد الرحمن
Newالأسود بن عامر الشامي ← أيوب بن عتبة اليمامي
ثقة
👤←👥العباس بن عبد العظيم العنبري، أبو الفضل
Newالعباس بن عبد العظيم العنبري ← الأسود بن عامر الشامي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← العباس بن عبد العظيم العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2195
بيع الغرر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2195 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2195
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  دھوکے کی بیع میں وہ سب صورتیں شامل ہیں جن میں خریدی اور بیچی جانے والی چیز کی مقدار کا اندازہ نہ کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
دریا میں مچھلیوں کی فروخت، یا مادہ جانور کے پیٹ کے بچے کی خریدو فروخت۔

(2)
اگر جائز چیز کے ساتھ ضمناً ایسی چیز بھی فروخت ہو رہی ہو جس کی حقیقت معلون نہ ہو تو وہ جائز ہے، مثلاً حاملہ جانور فروخت کیا جائے تو اس کے ساتھ اس کے پیٹ کا بیچ بھی فروخت ہوتا ہے جسے الگ سے فروخت کرنا جائز نہیں لیکن ماں کے ساتھ اس کی بیع درست ہے۔
اس طرح مکان فروخت کرتے وقت اس کی بنیادیں بھی ساتھ ہی فروخت ہو جاتی ہیں، حالانکہ ان کے بارے میں یہ اطمینان کرنا مشکل ہے کہ وہ کتنی گہری اور کتنی موٹی ہیں۔

(3)
  کنکری کی بیع سے مراد لاٹری کی وہ صورتیں ہیں جو اس دور میں رائج تھیں، مثلاً:
دکاندار گاہک سے کہتا کہ تم کنکری پھینکو جس چیز کو وہ کنکری لگے گی، میں وہ چیز تمہیں سو روپے کی دے دوں گا، جب کہ وہ چیزیں مقدار، معیار اور قدرو قیمت کے لحاظ سے مختلف ہویتں۔
آج کے دور میں لاٹری کی بہت سی صورتیں رائج ہیں، جیسے بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کرنے کے لیے انعامی سکیمیں شروع کردیتی ہیں۔
یہ سب کنکری کی بیع کے حکم میں ہیں۔

(4)
  جاہلیت میں کنکری کی بیع کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ تم کنکری پھینکو جہاں تک کنکری پہنچے گی میں اتنی زمین تمہیں فلاں قیمت میں دے دوں گا۔
یہ بھی منع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2195]