سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب : من قال لا ربا إلا في النسيئة
باب: سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل۔
حدیث نمبر: 2258
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ الرِّبْعِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَأْمُرُ بِالصَّرْفِ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُحَدَّثُ ذَلِكَ عَنْهُ، ثُمَّ بَلَغَنِي أَنَّهُ رَجَعَ عَنْ ذَلِكَ فَلَقِيتُهُ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ رَجَعْتَ، قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ رَأْيًا مِنِّي، وَهَذَا أَبُو سَعِيدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ".
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیع صرف کے جواز کا حکم دیتے سنا، اور لوگ ان سے یہ حدیث روایت کرتے تھے، پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ہے، تو میں ان سے مکہ میں ملا، اور میں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، وہ میری رائے تھی، اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع صرف سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2258]
حضرت ابو جوزاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (براہ راست) سنا کہ وہ بیعِ صرف کا حکم دیتے تھے (اسے جائز کہتے تھے) اور ان سے یہ قول روایت کیا جاتا تھا، پھر مجھے خبر ملی کہ انہوں نے اس قول سے رجوع کر لیا ہے، چنانچہ میں ان سے مکہ جا کر ملا اور عرض کیا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے (صَرف کے جواز سے) رجوع کر لیا ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں! وہ قول میری اپنی رائے تھی، اور یہ ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے بیعِ صرف سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/48، 51) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بیع صرف: جب مال برابر نہ ہو یا نقدا نقد نہ ہو، تو وہ بیع صرف کہلاتا ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما حدیث سنتے ہی اپنی رائے سے پھر گئے، اور رائے کو ترک کر دیا، اور حدیث پر عمل کر لیا، لیکن ہمارے زمانے کے نام نہاد مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پیروی نہیں کرتے، اور ایک حدیث کیا بہت ساری احادیث سن کر بھی اپنے مجتہد کا قول ترک نہیں کرتے، حالانکہ ان کا مجتہد کبھی خطا کرتا ہے کبھی صواب۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2258
| نهى عن الصرف |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2258 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2258
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیع صرف کا مطلب، سونے کا چاندی سے یا چاندی کا سونے سے یا ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہے۔
(2)
ایک ملک کی کرنسی ایک جنس ہے، دوسرے ملک کی کرنسی دوسری جنس ہے اگرچہ ان کا نام ایک ہی ہو، مثلاً:
پاکستانی روپیہ اور بھارتی روپیہ الگ الگ جنسیں ہیں۔
(3)
اس پر اتفاق ہے کہ مختلف اجناس کی کرنسی کے تبادلے میں ایک طرف سے نقد ادائیگی اور دوسری طرف سے ادائیگی کا وعدہ ناجائز ہے بلکہ دونوں طرف سے نقد ادائیگی شرط ہے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اگر جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی نہ کی جائے۔
(4)
مسئلے میں غلطی معلوم ہونے پر رجوع کرلینا عالم کی شان ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بیع صرف کا مطلب، سونے کا چاندی سے یا چاندی کا سونے سے یا ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہے۔
(2)
ایک ملک کی کرنسی ایک جنس ہے، دوسرے ملک کی کرنسی دوسری جنس ہے اگرچہ ان کا نام ایک ہی ہو، مثلاً:
پاکستانی روپیہ اور بھارتی روپیہ الگ الگ جنسیں ہیں۔
(3)
اس پر اتفاق ہے کہ مختلف اجناس کی کرنسی کے تبادلے میں ایک طرف سے نقد ادائیگی اور دوسری طرف سے ادائیگی کا وعدہ ناجائز ہے بلکہ دونوں طرف سے نقد ادائیگی شرط ہے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ اگر جنس ایک ہو تو ان میں کمی بیشی نہ کی جائے۔
(4)
مسئلے میں غلطی معلوم ہونے پر رجوع کرلینا عالم کی شان ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2258]
Sunan Ibn Majah Hadith 2258 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← أبو سعيد الخدري