🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب : التغليظ في الربا
باب: حرمت سود میں وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2276
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آخری آیت جو نازل ہوئی، وہ سود کی حرمت والی آیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر ہم سے بیان نہیں کی، لہٰذا سود کو چھوڑ دو، اور جس میں سود کا شبہ ہو اسے بھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2276]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سب سے آخر میں سود کی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تشریح کرنے سے پہلے فوت ہو گئے، اس لیے سود کو بھی چھوڑ دو اور مشکوک صورت سے بھی پرہیز کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10454)، وقد أخرجہ: (حم (1/36، 49) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اگرچہ سود کی آیت کے بعد اور کئی آیتیں اتریں، لیکن اس کو آخری اس اعتبار سے کہا کہ معاملات کے باب میں اس کے بعد کوئی آیت نہیں اتری، مقصد یہ ہے کہ سود کی آیت منسوخ نہیں ہے، اس کا حکم قیامت تک باقی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر نہیں کی یعنی جیسا چاہئے ویسا کھول کر سود کا مسئلہ بیان نہیں کیا، چھ چیزوں کا بیان کر دیا کہ ان میں سود ہے: سونا، چاندی، گیہوں، جو، نمک، اور کھجور، اور چیزوں کا بیان نہیں کیا کہ ان میں سود ہوتا ہے یا نہیں، لیکن مجتہدین نے اپنے اپنے قیاس کے موافق دوسری چیزوں میں بھی سود قرار دیا، اب جن چیزوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دیا ان میں تو سود کی حرمت قطعی ہے، کسی مسلمان کو اس کے پاس پھٹکنا نہ چاہئے، رہیں اور چیزیں جن میں اختلاف ہے تو تقوی یہ ہے کہ ان میں بھی سود کا پرہیز کرے، لیکن اگر کوئی اس میں مبتلا ہو جائے تو اللہ سے استغفار کرے اور حتی المقدور دوبارہ احتیاط رکھے، اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ اکثر لوگ سود کھانے سے بچتے ہیں تو دینے میں گرفتار ہوتے ہیں، حالانکہ دونوں کا گناہ برابر ہے، اللہ ہی اپنے بندوں کو بچائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
وله طريق آخر عند الإسماعيلي كما في مسند الفاروق (571/2)
وإسناده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← سعيد بن المسيب القرشي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو
Newنصر بن علي الأزدي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة ثبت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2276 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2276
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حلال و حرام کے مسائل میں سود کےمسائل آخر میں نازل ہوئے۔

(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کی تشریح فرمائی اور اس کی مختلف رائج صورتوں سے واضح طور پر منع فرما دیا، اس کے باوجود بعض صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جو بعد میں ایجاد ہوں اور علماء کو ان کےبارے میں قیاس کرنا پڑے اس لیے علماء کو ان معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر واضح فتویٰ جاری کرنا چاہیے۔

(3)
جب کوئی تجارتی معاملہ ایسا ہو کہ اس کے جائز یا ناجائز ہونےمیں شک ہو تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے جب تک علمائے کرام سے واضح رہنمائی نہ لے لی جائے۔

(4)
تجارت کے علاوہ دوسرے معاملات میں بھی مشکوک کام سے اجتناب کرنا چاہیے۔

(5)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح اور حسن قرار دیا ہے نیز صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ سب سے آخر میں سود کی آیت ہی نازل ہوئی۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4544)
لہٰذا اس روایت سے اور اس کے ہم معنی دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کےباوجود قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
مزیدتفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثة مسند الإمام أحمد: 1/ 361، وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد، رقم: 2276)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2276]

Sunan Ibn Majah Hadith 2276 in Urdu