سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. باب : السلف في كيل معلوم ووزن معلوم إلى أجل معلوم
باب: متعین ناپ تول میں ایک مقررہ مدت کے وعدے پر بیع سلف کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2281
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي فُلَانٍ أَسْلَمُوا لِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ جَاعُوا، فَأَخَافُ أَنْ يَرْتَدُّوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عِنْدَهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ: عِنْدِي كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ أُرَاهُ، قَالَ: ثَلاثُ مِائَةِ دِينَارٍ بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِسِعْرِ كَذَا وَكَذَا إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا وَلَيْسَ مِنْ حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے آ کر عرض کیا: فلاں قبیلہ کے یہودی مسلمان ہو گئے ہیں، اور وہ بھوک میں مبتلا ہیں، مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ مرتد نہ ہو جائیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے پاس کچھ نقدی ہے“ (کہ وہ ہم سے بیع سلم کرے)؟ ایک یہودی نے کہا: میرے پاس اتنا اور اتنا ہے، اس نے کچھ رقم کا نام لیا، میرا خیال ہے کہ اس نے کہا: میرے پاس تین سو دینار ہیں، اس کے بدلے میں بنی فلاں کے باغ اور کھیت سے اس اس قیمت سے غلہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیمت اور مدت کی تعیین تو منظور ہے لیکن فلاں کے باغ اور کھیت کی جو شرط تم نے لگائی ہے وہ منظور نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2281]
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”فلاں لوگ مسلمان ہو گئے ہیں، ان کا تعلق یہود سے ہے اور وہ بھوکے ہیں (ان کے پاس خوراک موجود نہیں) مجھے خطرہ ہے کہ وہ (بھوک کی وجہ سے) مرتد ہو جائیں گے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے پاس (کچھ مال) موجود ہے؟“ ایک یہودی نے کہا: ”میرے پاس اتنی مقدار ہے (اس نے چیز کا نام بھی لیا تھا) اس نے غالباً کہا: تین سو دینار۔ (اور کہا کہ میں اس کے عوض) فلاں بھاؤ سے، فلاں باغ سے (وصول کروں گا)۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں بھاؤ سے، اتنی مدت کے ادھار پر، لیکن فلاں باغ سے نہیں (باغ کے تعین کی شرط نہ لگائیں)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5329، ومصباح الزجاجة: 803) (ضعیف)» (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ احتمال ہے کہ اس باغ یا کھیت میں کچھ نہ ہو یا وہاں کا غلہ تباہ ہو جائے تو یہ شرط لغو اور بیکار ہے، البتہ یہ شرط قبول ہے کہ اس بھاؤ سے اتنے کا غلہ فلاں وقت اور تاریخ پر دے دیں گے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
الوليد لم يصرح بالسماع المسلسل
وللحديث طريق ضعيف عند الدار قطني في المؤتلف والمختلف (1388/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
ضعيف
الوليد لم يصرح بالسماع المسلسل
وللحديث طريق ضعيف عند الدار قطني في المؤتلف والمختلف (1388/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 460
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2281
| بسعر كذا وكذا إلى أجل كذا وكذا وليس من حائط بني فلان |
Sunan Ibn Majah Hadith 2281 in Urdu
حمزة بن محمد بن يوسف ← عبد الله بن سلام الخزرجي