🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : التوقي في الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ:" مَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلَّا أَتَيْتُهُ فِيهِ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَكَسَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَهُوَ قَائِمٌ مُحَلَّلَةً أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدِ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ"، قَالَ: أَوْ دُونَ ذَلِكَ، أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَلِكَ.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں بلا ناغہ ہر جمعرات کی شام کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا، میں نے کبھی بھی آپ کو کسی چیز کے بارے میں «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے نہیں سنا، ایک شام آپ نے کہا: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» اور اپنا سر جھکا لیا، میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے کرتے کی گھنڈیاں کھولے کھڑے ہیں، آنکھیں بھر آئی ہیں اور گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور کہہ رہے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کم یا زیادہ یا اس کے قریب یا اس کے مشابہ فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 23]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9492، ومصباح الزجاجة: 9)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/452)، سنن الدارمی/ المقدمة 28 (278) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کمال ادب تھا کہ حدیث کی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس وقت تک نسبت نہ کرتے تھے جب تک خوب یقین نہ ہو جاتا کہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، اور جب ذرا سا بھی گمان اور شبہہ ہوتا تو اس خوف سے ڈر جاتے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھ دیں، کیونکہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے صحیح حدیث کی روشنی میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن ميمون الأودي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newعمرو بن ميمون الأودي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥يزيد بن شريك التيمي، أبو إبراهيم
Newيزيد بن شريك التيمي ← عمرو بن ميمون الأودي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن يزيد التيمي، أبو أسماء
Newإبراهيم بن يزيد التيمي ← يزيد بن شريك التيمي
ثقة يرسل
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← إبراهيم بن يزيد التيمي
ثقة
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون
Newعبد الله بن عون المزني ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة ثبت فاضل
👤←👥معاذ بن معاذ العنبري، أبو المثنى، أبو هانئ
Newمعاذ بن معاذ العنبري ← عبد الله بن عون المزني
ثقة متقن
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← معاذ بن معاذ العنبري
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 23 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث23
اردو حاشہ:
(1)
عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ ہر جمعرات کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہفتہ وار علمی مجلس منعقد کیا کرتے تھے۔
صحیح بخاری میں مروی ہے کہ آپ سے ایک سے زیادہ بارعلم و وعظ کی مجلس قائم کرنے کی درخواست کی گئی تو فرمایا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مناسب موقع اور وقت کے لحاظ سے نصیحت کرتے تھے تاکہ سامعین اکتاہٹ کا شکار نہ ہو جائیں۔ (صحيح البخاري، العلم، باب من جعل لأهل العلم أياما معلومة، حديث: 70)
اس لیے علم سکھانے یا وعظ و نصیحت کرنے کے لیے ایک وقت مقرر کر لینا مناسب ہے، تاکہ لوگ آسانی سے استفادہ کر سکیں۔

(2)
حدیث میں (عَشِيَّةً)
کا لفظ ہے۔
جس کا ترجمہ ہم نے دن ڈھلے کیا ہے۔
عربی زبان میں (عَشِيَّةً)
 کا لفظ سورج ڈھلنے سے غروب آفتاب تک کے لیے بولا جاتا ہے۔
ہو سکتا ہے اس مجلس کا وقت ظہر کی نماز کے بعد مقرر ہو یا عصر کے بعد۔
والله أعلم
(3)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث کی لفظاً روایت سے اس لیے اجتناب کرتے تھے کہ کوئی ایسا لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ ہو جائے جو آپ نے نہیں فرمایا۔
تاہم بہت سے صحابہ کرام روایت باللفظ ہی کرتے تھے۔
حدیث کی روایت دونوں طرح درست ہے۔
روایت باللفظ افضل ہے، اور روایت بالمعنی میں احتیاط زیادہ ہے۔

(4)
روایت حدیث کے آداب میں یہ بھی ہے کہ اگر حدیث کے الفاظ پوری طرح یاد نہ ہوں تو حدیث بیان کر کے کہے:
(اَوْ كَمَا قَالَ)
یہ الفاظ، یا جو الفاظ آپ نے فرمائے جیسا کہ آئندہ روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا عمل مذکور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 23]