سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
69. باب : اتخاذ الماشية
باب: جانور پالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2306
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ أَبُو هُرَيْرَةَ الصَّيْرَفِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا زَرْبِيٌّ إِمَامُ مَسْجِدِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّاةُ مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکری تو جنت کے جانوروں میں سے ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7439، ومصباح الزجاجة: 810) (صحیح)» (سند میں زربی بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیزملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1128)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ زربي (بن عبد اللّٰه) متفق علي ضعفه ‘‘ ضعيف (تقريب: 2013)
وللحديث طريق آخر مظلم عند الخطيب (435/7)
وللحديث شواهد ضعيفة في الصحيحة للألباني (1128) !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
إسناده ضعيف جدًا
قال البوصيري: ’’ زربي (بن عبد اللّٰه) متفق علي ضعفه ‘‘ ضعيف (تقريب: 2013)
وللحديث طريق آخر مظلم عند الخطيب (435/7)
وللحديث شواهد ضعيفة في الصحيحة للألباني (1128) !
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥زربي بن عبد الله الأزدي، أبو يحيى زربي بن عبد الله الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | منكر الحديث | |
👤←👥حرمي بن عمارة العتكي، أبو روح حرمي بن عمارة العتكي ← زربي بن عبد الله الأزدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن فراس الضبعي، أبو هريرة محمد بن فراس الضبعي ← حرمي بن عمارة العتكي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عصمة بن الفضل النميري، أبو الفضل عصمة بن الفضل النميري ← محمد بن فراس الضبعي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2306
| الشاة من دواب الجنة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2306 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2306
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حلال جانور ہے۔
اس کا گوشت اور دودھ مفید ہے، اس لیے بکریاں پالنا اور ان کا گوشت اور دودھ استعمال کرنا چاہیے۔
(2)
اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ان جانوروں میں سے ہے جنہیں اللہ کی راہ میں ذبح کیا جاتا ہے اور عید کے موقع پر ان کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث کی سند میں ایک راوی ”زربی بن عبد اللہ“ ضعیف ہے، جس کی وجہ سے ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے الصحیحہ میں صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة، رقم: 1128)
فوائد و مسائل:
(1)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حلال جانور ہے۔
اس کا گوشت اور دودھ مفید ہے، اس لیے بکریاں پالنا اور ان کا گوشت اور دودھ استعمال کرنا چاہیے۔
(2)
اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ان جانوروں میں سے ہے جنہیں اللہ کی راہ میں ذبح کیا جاتا ہے اور عید کے موقع پر ان کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنت حاصل ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث کی سند میں ایک راوی ”زربی بن عبد اللہ“ ضعیف ہے، جس کی وجہ سے ہمارے فاضل محقق نے اسے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جب کہ علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے الصحیحہ میں صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الصحيحة، رقم: 1128)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2306]
محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن عمر العدوي