سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : الرجل يضع خشبة على جدار جاره
باب: پڑوسی کی دیوار پر دھرن (شہتیر) رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2336
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَلْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ، فَأَقْبَلَ مُجَمِّعُ بْنُ يَزِيدَ وَرِجَالٌ كَثِيرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ". فَقَالَ: يَا أَخِي إِنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ حَائِطِي أَوْ جِدَارِي فَاجْعَلْ عَلَيْهِ خَشَبَكَ.
عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ (بنی مغیرہ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے“، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2336]
حضرت عکرمہ بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو مغیرہ کے دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک نے قسم کھا لی کہ وہ اپنی دیوار پر (کسی کو) شہتیر نہیں رکھنے دے گا ورنہ غلام آزاد کرے گا۔ اس پر حضرت مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے دوسرے انصاری اصحاب رضی اللہ عنہم آ گئے اور انہوں نے کہا: ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے ہمسائے کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے منع نہ کرے۔“”اس (قسم کھانے والے) آدمی نے کہا: ”اے میرے بھائی! آپ کے حق میں، میرے خلاف فیصلہ ہو گیا ہے (اور میں اسے قبول کرتا ہوں) لیکن میں نے قسم کھا لی ہے تو آپ میری دیوار کے ساتھ ایک ستون بنا لیں اور اس پر اپنا شہتیر رکھ لیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11217، ومصباح الزجاجة: 808)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/479، 480) (حسن)» (سند میں ابن جریج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ھشام بن یحییٰ مستور لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور عکرمہ بن سلمہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: «بلمغیرة» یعنی «بني المغیرة» اس میں ایک لغت یہ بھی ہے۔ تاکہ تمہارا کام نکل جائے اور میرا نقصان نہ ہو، ورنہ میرا غلام آزاد ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عكرمة بن سلمة: مجھول (تقريب:4670)
وأصل الحديث صحيح،انظر الحديث السابق (الأصل: 2335) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
إسناده ضعيف
عكرمة بن سلمة: مجھول (تقريب:4670)
وأصل الحديث صحيح،انظر الحديث السابق (الأصل: 2335) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2336
| لا يمنع أحدكم جاره أن يغرز خشبة في جداره |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2336 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2336
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف اور معناً صحیح کہا ہے جیسا کہ انہوں نے تحقیق و تخریج میں ”اصل الحدیث صحیح “ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 25/ 287، 286، وصحيح سنن ابن ماجة للألبانى، رقم: 1905)
بنابریں اپنی ملکیت کی چیز کے بارے میں مشروط قسم کھانا جائز ہے مثلاً:
اگر میں فلاں کام کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔
(2)
ہمسائے کو مشترک دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ کر چھت ڈالنے سے منع کرنا جائز ہے نہیں۔
(3)
بزرگوں کو چاہیے کہ دو افراد میں پیدا ہونے والے باہمی اختلاف کو عدل وانصاف کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کریں۔
(4)
صحابہ وتابعین کرام حدیث سن کر جھگڑا ختم کر دیتے تھے اور حدیث پر عمل کرتے تھے خواہ حدیث کا فیصلہ ان کے خلاف ہی ہو۔
(5)
کوشش کرنی چاہیے کہ قسم کھانے والا اپنی قسم توڑنے پر مجبور نہ ہو بلکہ اپنی قسم پوری کرلے۔
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف اور معناً صحیح کہا ہے جیسا کہ انہوں نے تحقیق و تخریج میں ”اصل الحدیث صحیح “ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے علاوہ ازیں دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 25/ 287، 286، وصحيح سنن ابن ماجة للألبانى، رقم: 1905)
بنابریں اپنی ملکیت کی چیز کے بارے میں مشروط قسم کھانا جائز ہے مثلاً:
اگر میں فلاں کام کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔
(2)
ہمسائے کو مشترک دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ کر چھت ڈالنے سے منع کرنا جائز ہے نہیں۔
(3)
بزرگوں کو چاہیے کہ دو افراد میں پیدا ہونے والے باہمی اختلاف کو عدل وانصاف کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کریں۔
(4)
صحابہ وتابعین کرام حدیث سن کر جھگڑا ختم کر دیتے تھے اور حدیث پر عمل کرتے تھے خواہ حدیث کا فیصلہ ان کے خلاف ہی ہو۔
(5)
کوشش کرنی چاہیے کہ قسم کھانے والا اپنی قسم توڑنے پر مجبور نہ ہو بلکہ اپنی قسم پوری کرلے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2336]
Sunan Ibn Majah Hadith 2336 in Urdu
عكرمة بن سلمة بن ربيعة ← مجمع بن يزيد الأنصاري