سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : القافة
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ:" فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب (ابراہیم علیہ السلام) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا (تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2350]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور اسے کہا: ”ہمیں بتا کہ مقام ابراہیم پر جس شخص کا نشان ہے، ہم میں سے کس کا نشان قدم اس سے زیادہ ملتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اگر تم ہموار ریتلی زمین پر ایک چادر کھینچ کر (اسے بالکل ہموار کر دو، پھر) اس (ریت) پر چلو تو میں تمہارے سوال کا جواب دے دوں گی۔“ انہوں نے چادر کھینچی، پھر لوگ اس (ہموار ریت) پر چلے۔ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کے نشان کو دیکھ کر کہا: ”یہ صاحب اس (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد تقریباً بیس سال یا (کم و بیش) جتنا اللہ نے چاہا، اتنا عرصہ گزرا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (نبوت عطا فرما کر) مبعوث فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: 6130، ومصباح الزجاجة: 824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/332) (منکر ضعیف)ط (سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
إسناده ضعيف
سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف إسرائيل بن يونس السبيعي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← إسرائيل بن يونس السبيعي | ثقة | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن يوسف الفريابي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2350
| أبصرت أثر رسول الله فقالت هذا أقربكم إليه شبها ثم مكثوا بعد ذلك عشرين سنة أو ما شاء الله ثم بعث الله محمدا |
Sunan Ibn Majah Hadith 2350 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي