سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: الْقَافَةِ
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَائِشَةُ،" أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: ”عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2349]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بہت خوش خوش تشریف لائے اور آپ فرما رہے تھے: ”عائشہ! تمہیں نہیں معلوم کہ آج مجزز مدلجی میرے پاس آیا تو اس نے اسامہ اور زید رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ چادر اوڑھے (لیٹے) ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے سر چھپا رکھے تھے اور ان کے پاؤں نظر آ رہے تھے تو (مجزز) نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المناقب 23 (3355)، فضائل الصحابہ 17 (3731)، الفرائض 31 (6771)، صحیح مسلم/الرضاع 11 (1459)، سنن ابی داود/الطلاق 31 (2267)، سنن الترمذی/الولاء 5 (2129)، سنن النسائی/الطلاق 51 (3423، 3524)، (تحفة الأشراف: 16433)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/82، 226) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبنی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ گورے رنگ کے تھے، اور ان کے بیٹے اسامہ سانولے رنگ کے تھے، منافقوں نے یہ طوفان اٹھایا کہ اسامہ زید کے بیٹے نہیں ہیں، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا رنج ہوا، جب قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر ایک طرح کے بتلائے تو مزید اطمینان ہوا کہ اسامہ زید ہی کے بیٹے ہیں، ہر چند پہلے بھی اس کا یقین تھا مگر قیافہ شناس کے کہنے پر اور زیادہ یقین ہوا، منافقوں کا منہ بند ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی حاصل ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا امْرَأَةً كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ:" فَجَرُّوا كِسَاءً ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آ کرکہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب (ابراہیم علیہ السلام) سے زیادہ مشابہ ہے؟، وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا (تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2350]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور اسے کہا: ”ہمیں بتا کہ مقام ابراہیم پر جس شخص کا نشان ہے، ہم میں سے کس کا نشان قدم اس سے زیادہ ملتا ہے؟“ اس نے کہا: ”اگر تم ہموار ریتلی زمین پر ایک چادر کھینچ کر (اسے بالکل ہموار کر دو، پھر) اس (ریت) پر چلو تو میں تمہارے سوال کا جواب دے دوں گی۔“ انہوں نے چادر کھینچی، پھر لوگ اس (ہموار ریت) پر چلے۔ اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کے نشان کو دیکھ کر کہا: ”یہ صاحب اس (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔“ اس کے بعد تقریباً بیس سال یا (کم و بیش) جتنا اللہ نے چاہا، اتنا عرصہ گزرا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو (نبوت عطا فرما کر) مبعوث فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: 6130، ومصباح الزجاجة: 824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/332) (منکر ضعیف)ط (سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463
إسناده ضعيف
سلسلة سماك عن عكرمة: ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 463