🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : الحجر على من يفسد ماله
باب: جو شخص اپنا مال برباد کرتا ہو تو اس پر حجر (پابندی لگانا) درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2354
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال:" إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ هَا وَلَا خِلَابَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2354]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک صاحب تھے، ان کی عقل کمزور تھی اور وہ خرید و فروخت کرتے تھے (تو دھوکا کھا جاتے تھے)، ان کے گھر والوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان پر پابندی لگا دیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طلب فرمایا اور خرید و فروخت سے منع کر دیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں خرید و فروخت سے صبر نہیں کر سکتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو خرید و فروخت کرے تو کہہ دیا کر: «لَا خِلَابَةَ» دھوکا نہ کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 68 (3501)، سنن الترمذی/البیوع 28 (1250)، سنن النسائی/البیوع 10 (4490)، (تحفة الأشراف: 1175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/217) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہو گا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہو گا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے (طبرانی اور بیہقی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥أزهر بن مروان الرقاشي
Newأزهر بن مروان الرقاشي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1250
بايعت فقل هاء وهاء ولا خلابة
سنن أبي داود
3501
إن كنت غير تارك البيع فقل هاء وهاء ولا خلابة
سنن ابن ماجه
2354
إذا بايعت فقل ها ولا خلابة
سنن النسائى الصغرى
4490
إذا بعت فقل لا خلابة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2354 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2354
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«لاخلابة» دھوکا نہیں۔
کامطلب یہ ہے کہ اگر اس بیع میں تم نے مجھ سے دھوکا کیا تو معلوم ہونے پر میں بیع فسخ کرنے کا حق رکھتا ہوں۔

(2)
انہیں دھوکا اس لیے لگ جاتا تھا کہ ایک بار سر میں شدید زخم آنے کی وجہ سے ان کی عقل متائر ہو گئی تھی۔

(3)
جس شخص کی عقل درست نہ ہو اسے خرید وفروخت سے حکماً روکا جا سکتا ہے اور اس کی بیع کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے اس کے بعد جوشخص اس سے لین دین کرے گا وہ خود ذمہ دار ہو گا کیونکہ وارث اس کے لین دین کو کالعدم قرار دینے کا حق رکھتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2354]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4490
خرید و فروخت میں دھوکہ کھا جانے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کم عقلی کا شکار تھا اور تجارت کرتا تھا، اس کے گھر والوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے نبی! آپ اسے تجارت کرنے سے روک دیجئیے، تو آپ نے اسے بلایا اور اسے اس سے روکا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں تجارت سے باز نہیں آ سکتا، تو آپ نے فرمایا: جب بیچو تو کہو: فریب و دھوکہ نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4490]
اردو حاشہ:
(1) تجارت اور سوداگری میں دھوکا دینا، شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ ایسا تاجر جو لوگوں کو خرید و فروخت میں دھوکا دیتا ہے، وہ ان کا مال باطل طریقے سے کھاتا ہے اور یہ حرام ہے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ایک فریق کی طرف سے بھی کوئی ایسی شرط ہو جو شرعاً جائز ہو تو وہ معتبر ہو گی۔ نہ صرف شرط معتبر ہو گی بلکہ اس کی وجہ سے سودا فسخ اور ختم کرنے کا اختیار بھی اسے حاصل ہو گا۔
(3) یہ حدیث اس اہم مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ خبر واحد قطعی طور پر حجت ہے۔
(4) معقول عذر کی وجہ سے بالغ شخص پر تجارت نہ کرنے کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
(5) دھوکا نہیں ہونا چاہیے گویا کہا جا رہا ہے: اگر دھوکا ہو گا تو سودا واپس ہو گا۔ اگر صراحتاً واپسی کی شرط لگانے سے واپسی ہو سکتی ہے تو کنایۃً واپسی کی شرط سے واپسی میں کیا حرج ہے؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4490]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1250
جسے بیع میں دھوکہ دے دیا جاتا ہو وہ کیا کرے؟
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی خرید و فروخت کرنے میں بودا ۱؎ تھا اور وہ (اکثر) خرید و فروخت کرتا تھا، اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو (خرید و فروخت سے) روک دیجئیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا اور اسے اس سے منع فرما دیا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیع سے باز رہنے پر صبر نہیں کر سکوں گا، آپ نے فرمایا: (اچھا) جب تم بیع کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے لو اور کوئی دھوکہ دھڑی نہیں ۲؎۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1250]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حبان بن منقذ بن عمروانصاری تھے اورایک قول کے مطابق اس سے مراد ان کے والد تھے ان کے سرمیں ایک غزوے کے دوران جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑاتھا پتھرسے شدید زخم آ گیا تھا جس کی وجہ سے ان کے حافظے اورعقل میں کمزوری آ گئی تھی اورزبان میں بھی تغیرآ گیا تھا لیکن ابھی تمیزکے دائرہ سے خارج نہیں ہوئے تھے۔

2؎:
مطلب یہ ہے کہ دین میں دھوکہ وفریب نہیں کیونکہ دین تونصیحت وخیرخواہی کا نام ہے۔

3؎:
ان کا کہنا ہے کہ یہ حبان بن منقذ کے ساتھ خاص تھا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1250]

Sunan Ibn Majah Hadith 2354 in Urdu