سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : من وجد متاعه بعينه عند رجل قد أفلس
باب: ایک شخص کا دیوالیہ ہو گیا اور کسی نے اپنا مال اس کے پاس پا لیا تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْيَمَانُ بْنُ عَدِيٍّ ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرِئٍ مَاتَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةٌ لِلْغُرَمَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مر جائے، اور اس کے پاس کسی کا مال بعینہ موجود ہو، خواہ اس کی قیمت سے کچھ وصول کیا ہو یا نہیں، وہ ہر حال میں دوسرے قرض خواہوں کے مانند ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2361]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے پاس کسی (قرض خواہ) کا مال بعینہ موجود ہو تو قرض خواہ نے اس سے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، (ہر حال میں) وہ دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15268) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال الدارقطني (3/ 29): ’’ اليمان بن عدي ضعيف الحديث ‘‘
و الحديث السابق (الأصل: 2360) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
إسناده ضعيف
قال الدارقطني (3/ 29): ’’ اليمان بن عدي ضعيف الحديث ‘‘
و الحديث السابق (الأصل: 2360) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل محمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥اليمان بن عدي الحضرمي، أبو عدي اليمان بن عدي الحضرمي ← محمد بن الوليد الزبيدي | ضعيف الحديث | |
👤←👥عمرو بن عثمان القرشي، أبو حفص عمرو بن عثمان القرشي ← اليمان بن عدي الحضرمي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2360
| أيما رجل مات أفلس فصاحب المتاع أحق بمتاعه إذا وجده بعينه |
سنن ابن ماجه |
2361
| أيما امرئ مات وعنده مال امرئ بعينه اقتضى منه شيئا أو لم يقتض فهو أسوة للغرماء |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2361 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2361
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر فوت ہونے والے نے کسی سے نقد رقم قرض لی ہو اور اسے استعمال کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو جس شخص نے یہ رقم قرض دی تھی وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ پوری کی پوری رقم مجھے ملنی چاہیے کیونکہ یہ وہی نوٹ ہیں جو اس نے مجھ سے لیے تھے بلکہ یہ قرض خواہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہی ہے۔
اگر اوروں کو پورا قرض ملے گا تو اسے بھی اس کا پورا قرض مل جائے گا۔
اور اگر اس کارقرض ترکے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسرے قرض خواہوں کی اصل قرض سے کم وصول ہو رہا ہے تو اسے بھی اسی نسبت سے کم ادائیگی کی جائے گی۔
اس معاملے میں نقد رقم کا حکم دوسرے سامان کا نہیں جو اگر بعینہ موجود ہو تو قرض خواہ اسے لے لیتا ہے جیسے حدیث: 2359 کا فائدہ: 3 (الف)
میں بیان کیا گیا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اگر فوت ہونے والے نے کسی سے نقد رقم قرض لی ہو اور اسے استعمال کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو جس شخص نے یہ رقم قرض دی تھی وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ پوری کی پوری رقم مجھے ملنی چاہیے کیونکہ یہ وہی نوٹ ہیں جو اس نے مجھ سے لیے تھے بلکہ یہ قرض خواہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہی ہے۔
اگر اوروں کو پورا قرض ملے گا تو اسے بھی اس کا پورا قرض مل جائے گا۔
اور اگر اس کارقرض ترکے میں زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسرے قرض خواہوں کی اصل قرض سے کم وصول ہو رہا ہے تو اسے بھی اسی نسبت سے کم ادائیگی کی جائے گی۔
اس معاملے میں نقد رقم کا حکم دوسرے سامان کا نہیں جو اگر بعینہ موجود ہو تو قرض خواہ اسے لے لیتا ہے جیسے حدیث: 2359 کا فائدہ: 3 (الف)
میں بیان کیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2361]
Sunan Ibn Majah Hadith 2361 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي