🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : من أعطى ولده ثم رجع فيه
باب: اپنی اولاد کو کچھ دے کر واپس لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2378
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَرْجِعْ أَحَدُكُمْ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدَ مِنْ وَلَدِهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے کوئی واپس نہ لے سوائے باپ کے جو وہ اپنی اولاد کو کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2378]
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے ہبہ سے رجوع نہ کرے مگر والد اپنی اولاد سے (واپس لے سکتا ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2378]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الھبة 2 (3719)، (تحفة الأشراف: 8722)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 83 (3540)، مسند احمد (4/182)، (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥عامر الأحول
Newعامر الأحول ← عمرو بن شعيب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← عامر الأحول
ثقة حافظ
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥جميل بن الحسن الحمصي، أبو الحسن
Newجميل بن الحسن الحمصي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ضعيف الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2378
لا يرجع أحدكم في هبته إلا الوالد من ولده
سنن النسائى الصغرى
3719
لا يرجع أحد في هبته إلا والد من ولده العائد في هبته كالعائد في قيئه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2378 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2378
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کوتحفے کےطورپرکوئی چیز دے کرواپس لینا جائزنہیں خواہ وہ تحفہ معمولی ہو یا قیمتی۔

(2)
والد اپنی اولاد کو دی ہوئی چیز واپس لےسکتا ہے۔

(3)
والدہ کا بھی یہی حکم ہے۔

(4)
بعض علماء نےنانا، نانی اوردادا، دادی کوبھی اسی حکم میں شامل کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2378]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3719
باپ بیٹے کو دے کر واپس لے لے اس کا بیان اور اس حدیث کے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ دے کر واپس نہیں لے سکتا، سوائے باپ کے کہ وہ اپنے بیٹے کو دے کر پھر واپس لے سکتا ہے، (سن لو) ہبہ کر کے واپس لینے والا ایسا ہی ہے جیسے کوئی قے کرے کے چاٹے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الهبة/حدیث: 3719]
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے دومسئلے معلوم ہوتے ہیں: ٭ہبہ میں رجوع حرام ہے۔ ٭والد کے لیے رجوع جائز ہے۔ جمہور اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ مگر لطیفہ یہ ہے کہ احناف نے ان دونوں میں معاملہ الٹ دیا ہے۔ ان کے نزدیک ہبہ میں رجوع جائز ہے مگر باپ یا محرم رشتہ دار رجوع نہیں کرسکتا۔ دلیل یہ ہے کہ محرم رشتہ دار کا ہبہ صلہ رحمی ہے اور صلہ رحمی کو قطع کرنا جائز نہیں‘ بخلاف اجنبی شخص کے کہ اس کا ہبہ تو اس کی خوشی پر موقوف ہے‘ لہٰذا جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔ تعجب ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اور صریح حدیث کے خلاف کس دھڑلے سے عقلی ڈھکوسلے گھڑے جاسکتے ہیں‘ حالانکہ یوں بھی کہا جاسکتا تھا کہ جب کوئی چیز کسی کو ہبہ کردی جاتی تو وہ اس کی ملک بن جاتی ہے۔ کسی کی ملک سے کوئی چیز اس کی مرضی کے بغیر چھیننا جائز نہیں‘ لہٰذا اس کے لیے رجوع درست نہیں‘ البتہ والد اپنی اولاد کی ملک سے کسی وقت کوئی چیز بلااجازت لے سکتا ہے‘ لہٰذا اس کے لیے رجوع بھی جائز ہے۔ یہ عقلی توجیہ اس حدیث کے بھی موافق ہے: [أنتَ ومالُكَ لأبيكَ]  تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ (سنن ابن ماجه‘ التجارات‘ باب ماللرجل من مال ولده‘ حدیث: 2291) (مزید دیکھیے‘ حدیث: 3732ٌ)
(2) اس کتے کی طرح ہے اور کتے سے مشابہت حرام ہے‘ لہٰذا یہ کام بھی حرام ہے۔ چونکہ احناف رجوع کو جائز سمجھتے ہیں‘ لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ کتے کے لیے قے چاٹنا کون سا حرام ہے کہ رجوع حرام ہو۔ یہ تو صریح تقبیح کے لیے ہے‘ حالانکہ آئندہ حدیث میں صراحتاً لاَ یَحِلُّ کے الفاظ ہیں۔ حدیث پر عمل کرنا ہی نجات دے گا۔ تاویلیں کسی کام نہیں آئیں گی۔
(3) ایسی چیز جو شریعت میں منع ہے اس سے نفرت دلانے کے لیے کسی قبیح چیز کی مثال دینا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3719]

Sunan Ibn Majah Hadith 2378 in Urdu