🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : ثواب معلم الناس الخير
باب: لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْبَحْرِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: عالم کے لیے آسمان و زمین کی تمام مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں بھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10952)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ المقدمة 32 (355) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عالم باعمل کی بڑی فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن عطاء الخراساني: ضعيف وحفص بن عمر الشامي البزاز مجھول (تقريب: 4502،1425)
قال الدارقطني في عثمان بن عطاء الخراساني: ’’ ھو ضعيف الحديث جدًا ‘‘ (163/3،164)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عويمر بن مالك الأنصاري، أبو الدرداءصحابي
👤←👥عطاء بن أبي مسلم الخراساني، أبو عثمان، أبو محمد، أبو أيوب، أبو صالح
Newعطاء بن أبي مسلم الخراساني ← عويمر بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عثمان بن عطاء الخراساني، أبو مسعود
Newعثمان بن عطاء الخراساني ← عطاء بن أبي مسلم الخراساني
ضعيف الحديث
👤←👥حفص بن عمر البزاز
Newحفص بن عمر البزاز ← عثمان بن عطاء الخراساني
مجهول
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← حفص بن عمر البزاز
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
239
يستغفر للعالم من في السماوات ومن في الأرض حتى الحيتان في البحر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 239 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث239
اردو حاشہ:
(1)
بعض محققین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، دیکھیے: التعلیق الرغیب: 1؍60، 59)
 
(2)
آسمان کی مخلوقات سے مراد فرشتے ہیں اور زمینی مخلوقات میں تمام حیوانات، جمادات، حشرات، پرندے اور سمندری مخلوقات وغیرہ شامل ہیں۔
اور نیک آدمی کی برکات سے تمام مخلوقات مستفید ہوتی ہیں۔

(3)
حیوانات و جمادات میں بھی شعور پایا جاتا ہے اگرچہ ہمیں اس کا احساس نہ ہو، اس لیے وہ اپنے اپنے طریقے سے اللہ کی عبادت بھی کرتے ہیں، انہیں اللہ کی محبت و خشیت بھی حاصل ہے۔
اسی وجہ سے وہ اللہ کے نیک بندوں سے محبت اور نافرمان گناہ گاروں سے نفرت رکھتے ہیں۔

(4)
اس حدیث سے معلم اور مبلغ کا شرف اور اللہ کے ہاں ان کا بلند مقام ظاہر ہوتا ہے، یہ تعلیم و تبلیغ تقریر سے ہو یا تحریر سے یا تدریس کی صورت میں ہو بشرطیکہ وہ خود بھی اپنے علم کے مطابق عمل کریں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 239]