سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب : ثواب معلم الناس الخير
باب: لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔
حدیث نمبر: 242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ، وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ، عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا، کوئی مسجد بنا گیا، یا مسافروں کے لیے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو، یا کوئی نہر جاری کر گیا، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13474، ومصباح الزجاجة: 96)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا 14 (2880)، مسند احمد (2/372)، سنن الدارمی/المقدمة 46 (578) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم: مدلس
وكان يدلس تدليس التسوية ولم يصرح بالسماع المسلسل ومرزوق بن أبي الھذيل: لين الحديث (تقريب: 6554) أي ضعيف و ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم: مدلس
وكان يدلس تدليس التسوية ولم يصرح بالسماع المسلسل ومرزوق بن أبي الھذيل: لين الحديث (تقريب: 6554) أي ضعيف و ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان الأغر، أبو عبد الله سلمان الأغر ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سلمان الأغر | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥مرزوق بن أبي الهذيل الثقفي، أبو بكر مرزوق بن أبي الهذيل الثقفي ← محمد بن شهاب الزهري | مقبول | |
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس الوليد بن مسلم القرشي ← مرزوق بن أبي الهذيل الثقفي | ثقة | |
👤←👥محمد بن وهب السلمي، أبو عبد الله محمد بن وهب السلمي ← الوليد بن مسلم القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← محمد بن وهب السلمي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
242
| يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما علمه ونشره ولدا صالحا تركه مصحفا ورثه مسجدا بناه بيتا لابن السبيل بناه نهرا أجراه صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته يلحقه من بعد موته |
مشكوة المصابيح |
254
| المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما علمه ونشره وولدا صالحا تركه ومصحفا ورثه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 242 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث242
اردو حاشہ:
(1)
بعض محققین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: (التعلق الرغیب: 1؍58، 57)
و (ارواء الغلیل: 6؍29)
(2)
اس حدیث میں بطور مثال چند اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی کی وفات کے بعد بھی گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا باعث بنتے رہتے ہیں، گویا اس کا عمل اب بھی جاری ہے۔
(3)
حدیث میں مذکور تمام اعمال ایسے ہیں جو فوت ہونے والے نے اپنی زندگی میں خود کیے تھے، بعد میں کسی کی طرف سے قرآن پڑھنا یا نماز ادا کرنا اس میں شامل نہیں۔
(4)
صدقہ وہی افضل ہے جو انسان اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں دیتا ہے۔
اسی طرح اللہ کی راہ میں کیے جانے والے دوسرے اخراجات کا حال ہے۔
جب کوئی شخص شدید بیمار ہو جائے اور محسوس ہو کہ اب آخری وقت قریب ہے اس وقت صدقہ خیرات کرنا یا اس کی وصیت کرنا وہ مقام نہیں رکھتا۔
حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا:
کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا:
جو صدقہ تو اس وقت کرے جب تو تندرست ہو، مال سے محبت رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور تونگری کی امید رکھتا ہو، اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آ پہنچے، پھر تو کہے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا دینا۔
اب تو وہ مال انہی کا ہو چکا۔ (صحيح البخاري، الزكاة، باب:
فضل صدقة الشحيح الصحيح، حديث: 1419)
(1)
بعض محققین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: (التعلق الرغیب: 1؍58، 57)
و (ارواء الغلیل: 6؍29)
(2)
اس حدیث میں بطور مثال چند اعمال کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی کی وفات کے بعد بھی گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا باعث بنتے رہتے ہیں، گویا اس کا عمل اب بھی جاری ہے۔
(3)
حدیث میں مذکور تمام اعمال ایسے ہیں جو فوت ہونے والے نے اپنی زندگی میں خود کیے تھے، بعد میں کسی کی طرف سے قرآن پڑھنا یا نماز ادا کرنا اس میں شامل نہیں۔
(4)
صدقہ وہی افضل ہے جو انسان اپنی زندگی میں صحت کی حالت میں دیتا ہے۔
اسی طرح اللہ کی راہ میں کیے جانے والے دوسرے اخراجات کا حال ہے۔
جب کوئی شخص شدید بیمار ہو جائے اور محسوس ہو کہ اب آخری وقت قریب ہے اس وقت صدقہ خیرات کرنا یا اس کی وصیت کرنا وہ مقام نہیں رکھتا۔
حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا:
کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا:
جو صدقہ تو اس وقت کرے جب تو تندرست ہو، مال سے محبت رکھتا ہو، فقر سے ڈرتا ہو اور تونگری کی امید رکھتا ہو، اور اتنی دیر نہ کر کہ جان حلق میں آ پہنچے، پھر تو کہے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا دینا۔
اب تو وہ مال انہی کا ہو چکا۔ (صحيح البخاري، الزكاة، باب:
فضل صدقة الشحيح الصحيح، حديث: 1419)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 242]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 254
اعمال جاریہ
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ - [85] - الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا علمه ونشره وَولدا صَالحا تَركه ومصحفا وَرَّثَهُ أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ أَوْ صَدَقَةً أخرجهَا من مَاله فِي صِحَّته وحياته يلْحقهُ من بعد مَوته» . رَوَاهُ بن مَاجَه وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن آدمی کو اس کے مر جانے کے بعد اس عملوں اور نیکیوں میں سے، جو اس کو ثواب ملتا ہے، وہ علم ہے جو اس نے لوگوں کو سیکھایا اور آگے پھیلایا۔ پھر وہ نیک اولاد ہے جس کو اس نے اپنے بعد چھوڑا ہے یہ نیک اولاد کی دعا وغیرہ کا ثواب اس کو ملتا رہتا ہے اور تیسرا قرآن مجید ہے جس کو اس نے وارثوں کے لیے چھوڑا کہ لوگ اس کو پڑھتے پڑھاتے ہیں اسی قرآن مجید کے حکم میں حدیث شریف بھی ہے اور چوتھا مسجد ہے جس کو اس نے اپنی زندگی میں بنوایا کہ لوگ اس میں نماز پڑھتے ہیں، پانچواں مسافر خانہ جو مسافروں کے ٹھہرنے کے لیے بنوایا اور چھٹا نہر جاری کرائی اور ساتواں وہ صدقہ خیرات جس کو اس نے اپنی تندرستی اور زندگی میں اپنے مال میں سے دیا، ان تمام کاموں کا ثواب اس کے مرنے کے بعد اس کو پہنچتا رہتا ہے۔“ اس حدیث کو ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 254]
«. . . عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ - [85] - الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا علمه ونشره وَولدا صَالحا تَركه ومصحفا وَرَّثَهُ أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ أَوْ صَدَقَةً أخرجهَا من مَاله فِي صِحَّته وحياته يلْحقهُ من بعد مَوته» . رَوَاهُ بن مَاجَه وَالْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن آدمی کو اس کے مر جانے کے بعد اس عملوں اور نیکیوں میں سے، جو اس کو ثواب ملتا ہے، وہ علم ہے جو اس نے لوگوں کو سیکھایا اور آگے پھیلایا۔ پھر وہ نیک اولاد ہے جس کو اس نے اپنے بعد چھوڑا ہے یہ نیک اولاد کی دعا وغیرہ کا ثواب اس کو ملتا رہتا ہے اور تیسرا قرآن مجید ہے جس کو اس نے وارثوں کے لیے چھوڑا کہ لوگ اس کو پڑھتے پڑھاتے ہیں اسی قرآن مجید کے حکم میں حدیث شریف بھی ہے اور چوتھا مسجد ہے جس کو اس نے اپنی زندگی میں بنوایا کہ لوگ اس میں نماز پڑھتے ہیں، پانچواں مسافر خانہ جو مسافروں کے ٹھہرنے کے لیے بنوایا اور چھٹا نہر جاری کرائی اور ساتواں وہ صدقہ خیرات جس کو اس نے اپنی تندرستی اور زندگی میں اپنے مال میں سے دیا، ان تمام کاموں کا ثواب اس کے مرنے کے بعد اس کو پہنچتا رہتا ہے۔“ اس حدیث کو ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 254]
تحقيق الحديث:
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اسے امام ابن خزیمہ [4؍121 ح2490] نے روایت کیا، یعنی صحیح قرار دیا ہے لیکن مرزوق بن ابی الہذیل الثقفی الدمشقی کے بارے میں محدثین کرام کا اختلاف ہے۔
◄ دحیم، ابوحاتم الرازی اور ابن خزیمہ نے اس کی توثیق کی ہے اور حافظ منذری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے، جبکہ بخاری، ابن حبان، عقیلی، ابن عدی، ابن الجوزی اور ابن حجر العسقلانی وغیرہم نے اس پر جرح کی ہے، لہٰذا جمہور کے نزدیک مضعّف ہونے کی وجہ سے وہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔
◄ حافظ ذہبی نے مرزوق مذکور کو اپنی کتاب [ديوان الضعفاء والمتروكين 2؍352 ت4075] میں ذکر کیا اور ابن حبان سے نقل کیا کہ «ينفرد عن الزهري بالمناكير» وہ زہری سے منکر روایتوں کے ساتھ منفرد ہوتا ہے۔
◄ روایت مذکورہ بھی «مرزوق: حدثنا الزهري» کی سند سے ہے، جبکہ دوسری طرف امام دحیم نے مرزوق کو زہری سے صحیح الحدیث قرار دیا، لیکن جمہور کو ترجیح کی وجہ سے جرح راجح ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے۔
◄ اسے امام ابن خزیمہ [4؍121 ح2490] نے روایت کیا، یعنی صحیح قرار دیا ہے لیکن مرزوق بن ابی الہذیل الثقفی الدمشقی کے بارے میں محدثین کرام کا اختلاف ہے۔
◄ دحیم، ابوحاتم الرازی اور ابن خزیمہ نے اس کی توثیق کی ہے اور حافظ منذری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے، جبکہ بخاری، ابن حبان، عقیلی، ابن عدی، ابن الجوزی اور ابن حجر العسقلانی وغیرہم نے اس پر جرح کی ہے، لہٰذا جمہور کے نزدیک مضعّف ہونے کی وجہ سے وہ ضعیف الحدیث راوی ہے۔
◄ حافظ ذہبی نے مرزوق مذکور کو اپنی کتاب [ديوان الضعفاء والمتروكين 2؍352 ت4075] میں ذکر کیا اور ابن حبان سے نقل کیا کہ «ينفرد عن الزهري بالمناكير» وہ زہری سے منکر روایتوں کے ساتھ منفرد ہوتا ہے۔
◄ روایت مذکورہ بھی «مرزوق: حدثنا الزهري» کی سند سے ہے، جبکہ دوسری طرف امام دحیم نے مرزوق کو زہری سے صحیح الحدیث قرار دیا، لیکن جمہور کو ترجیح کی وجہ سے جرح راجح ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 254]
سلمان الأغر ← أبو هريرة الدوسي