🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : أداء الدين عن الميت
باب: میت کی طرف سے قرض ادا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2433
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ ، أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَتَرَكَ عِيَالًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ، فَاقْضِ عَنْهُ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ، ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ:" فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ".
سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پا گئے، اور (ترکہ میں) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے، اس کا قرض ادا کرو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بھی ادا کر دو اس لیے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3823، ومصباح الزجاجة: 856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136، 5/7) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الملك أبو جعفر مجھول الحال
و للحديث شاھد صحيح عند أحمد (5/ 7) والبخاري في التاريخ الكبير (4/ 45) والبيهقي (10/ 142) إلا أنه لم يسم كم ترك
يعني الحديث صحيح دون قوله: و ترك ثلاثمائة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن الأطول الجهني، أبو مطرف، أبو قضاعةصحابي
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة
Newالمنذر بن مالك العوفي ← سعد بن الأطول الجهني
ثقة
👤←👥عبد الملك البصري، أبو جعفر
Newعبد الملك البصري ← المنذر بن مالك العوفي
مجهول
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← عبد الملك البصري
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عفان بن مسلم الباهلي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2433
أخاك محتبس بدينه فاقض عنه فقال يا رسول الله قد أديت عنه إلا دينارين ادعتهما امرأة وليس لها بينة قال فأعطها فإنها محقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2433 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2433
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
بیوی بچوں پرخرچ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مال ان کے حوالے کردیا جائے یا اس سے ان کی ضروریات پوری کی جائیں کیونکہ مرنے والے کے ترکے میں سے بیوی کا حقہ مقرر ہے جو باقی بچے وہ بچوں کا ہے۔

(2)
وراثت میں بعض افراد کا حصہ مقررہے۔
انھیں حصہ دینے کےبعد باقی مال قریبی رشتے داروں کو ملتا ہے۔
انھیں عصبہ کہتے ہیں۔
عصبہ افراد میں بیٹا، بھائی پرمقدم ہے۔

(3)
ترکے کی تقسیم قرض کی ادائیگی کے بعد ہوتی ہے۔

(4)
عورت کا یہ دعوی تھا کہ مرنے والے کےذمے اس کے دو دینار تھے۔
حضرت سعد بن اطول رضی اللہ عنہ اپنے اطمینان کےلیے گواہی طلب کرتےتھے عورت کے پاس گواہی نہ تھی اس قسم کی مشکلات سے بچنے کےلیے حکم دیا گیا ہے کہ قرض کا لین دین تحریر میں لانا چاہیے اور گواہ بھی مقرر کیے جائیں۔

(5)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے سے معلوم ہو گیا کہ عورت کا دعوی درست ہے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دو دینار دلوا دیے۔

(6)
قرض ادا نہ ہونے کی صورت میں فوت ہونے والے کواللہ کے ہاں قید کیا جاتا ہے لیکن یہ قید صرف جنت میں داخلے سےرکاوٹ ہے اس کی وجہ سے وہ جہنم کا مستحق نہیں بن جاتا۔
واللہ أعلم.
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2433]