🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : حدثنا ابوبکر بن أبی شیبہ
باب: حدثنا ابوبکر بن أبی شیبہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2439
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب: ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6239)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 7 (1214)، سنن النسائی/البیوع 81 (4655)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624)، مسند احمد (1/236، 300، 301، 361) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥هلال بن خباب العبدي، أبو العلاء
Newهلال بن خباب العبدي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥ثابت بن يزيد الأحول، أبو زيد
Newثابت بن يزيد الأحول ← هلال بن خباب العبدي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن معاوية الجمحي، أبو جعفر
Newعبد الله بن معاوية الجمحي ← ثابت بن يزيد الأحول
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2439
مات ودرعه رهن عند يهودي بثلاثين صاعا من شعير
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2439 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2439
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
رہن کا مطلب ہے کہ کسی کے پاس اپنی کوئی چیز بطورضمانت رکھ کر اس سے قرض یا ادھار لینا۔
ضرورت کے وقت اس طرح قرض لینا یا دینا جائز ہے۔

(2)
قرآن مجید میں ارشاد ہے ﴿وَاِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا کَاتِباً فَرِهنٌ مَّقْبُوْضَة﴾ (البقرۃ2: 283)
اگر تم سفر میں ہو اورتمھیں (قرض کا لین دین)
لکھنے والانہ ملے تو رہن قبضے میں رکھ لیاکرو۔
اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتاہےکہ رہن کامعاملہ سفر کے ساتھ خاص ہے۔
حدیث سےواضح ہوگیا کہ حضر میں بھی گروی رکھنا جائز ہے۔

(3)
غیر مسلموں سےلین دین کرنا جائز ہے۔
یہ ان سے دلی دوستی نہ رکھنے کےمنافی نہیں۔

(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس غنائم وغیرہ کا جومال آتا تھا اس کا پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ضرورت پرخرچ کرنے کی اجازت تھی تاہم رسول اللہ یہ بھی عام مسلمانوں کی ضروریات میں خرچ فرما دیتےتھے اس لیے رہن شدہ زرہ واپس لینے کی طرف توجہ نہیں ہوئی۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2439]