سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ : الرَّجُلِ يَسْتَقِي كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَيَشْتَرِطُ جَلْدَةً
باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا، قَالَ:" الْخَمْصُ" فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلًا، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ: أَسْقِي نَخْلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ. وَاشْتَرَطَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلَا تَارِزَةً وَلَا حَشَفَةً، وَلَا يَأْخُذَ إِلَّا جَلْدَةً، فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک سے“، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2448]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ انصار میں سے ایک صاحب نے آکر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ (کے چہرہ مبارک) کا رنگ بدلا ہوا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک (کی وجہ سے) ہے۔“ انصاری صحابی اپنے گھر گئے، گھر میں انہیں (کھانے کی) کوئی چیز نہ ملی۔ وہ (کام کی) تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ دیکھا کہ ایک یہودی کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا تھا۔ انصاری صحابی نے یہودی سے کہا: ”کیا میں تمہارے درختوں کو پانی دے دوں؟“ اس نے کہا: ”ہاں (دے دو)“ اور کہا: ”ہر ڈول کا معاوضہ ایک کھجور ہو گی۔“ انصاری نے شرط لگا لی کہ وہ کالی، سوکھی اور خراب کھجور نہیں لیں گے بلکہ عمدہ کھجور ہی لیں گے۔ انہوں نے (باغ کو) پانی دے کر اس کے عوض تقریباً دو صاع کھجوریں حاصل کر لیں اور انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14335، ومصباح الزجاجة: 865) (ضعیف جدا)» (سند میں عبداللہ بن سعید بن کیسان متہم بالکذب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥كيسان المقبري، أبو سعيد كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الله بن سعيد المقبري، أبو عباد عبد الله بن سعيد المقبري ← كيسان المقبري | متروك الحديث | |
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن محمد بن الفضيل الضبي ← عبد الله بن سعيد المقبري | صدوق عارف رمي بالتشيع | |
👤←👥علي بن المنذر الطريقي، أبو الحسن علي بن المنذر الطريقي ← محمد بن الفضيل الضبي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2448
| ما لي أرى لونك منكفئا |
Sunan Ibn Majah Hadith 2448 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي