سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَقِي كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَيَشْتَرِطُ جَلْدَةً
باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَصَابَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا يُصِيبُ فِيهِ شَيْئًا لِيُغِيثَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشَرَةَ عَجْوَةً فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار بھوک لگی یہ خبر علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو وہ کام کی تلاش میں نکلے جسے کر کے کچھ پائیں تو لے کر آئیں تاکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا سکیں، چنانچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے، اور اس کے لیے سترہ ڈول پانی کھینچا، ہر ڈول ایک کھجور کے بدلے، یہودی نے ان کو اختیار دیا کہ وہ اس کی کھجوروں میں سے سترہ عجوہ کھجوریں چن لیں، وہ انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2446]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فاقہ آ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو وہ کسی کام کی تلاش میں نکلے تاکہ اس کے ذریعے سے کچھ (اجرت) ملے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلائیں۔ وہ ایک یہودی کے باغ میں جا پہنچے اور اس کے لیے، ایک ڈول پر ایک کھجور مزدوری کی شرط پر، سترہ ڈول پانی نکالا۔ یہودی نے آپ کو اختیار دیا کہ سترہ عجوہ کھجوریں چن کر لے لیں۔ وہ ان (کھجوروں) کو لے کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6032، ومصباح الزجاجة: 863) (ضعیف جدا)» (سند میں حنش حسین بن قیس الرحبی) متروک الحدیث ہے، ملاحظہ ہو: الإروا ء: 5 /314)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
حنش: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف جدًا
حنش: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2447]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک کھجور کے بدلے میں ایک ڈول پانی نکالتا تھا اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ عمدہ ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10325، ومصباح الزجاجة: 864) (حسن)» (سند میں ابواسحاق مدلس و مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 5/ 314- 315 تحت رقم: 91 14)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا، قَالَ:" الْخَمْصُ" فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلًا، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ: أَسْقِي نَخْلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ. وَاشْتَرَطَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلَا تَارِزَةً وَلَا حَشَفَةً، وَلَا يَأْخُذَ إِلَّا جَلْدَةً، فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک سے“، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2448]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ انصار میں سے ایک صاحب نے آکر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ (کے چہرہ مبارک) کا رنگ بدلا ہوا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک (کی وجہ سے) ہے۔“ انصاری صحابی اپنے گھر گئے، گھر میں انہیں (کھانے کی) کوئی چیز نہ ملی۔ وہ (کام کی) تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ دیکھا کہ ایک یہودی کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا تھا۔ انصاری صحابی نے یہودی سے کہا: ”کیا میں تمہارے درختوں کو پانی دے دوں؟“ اس نے کہا: ”ہاں (دے دو)“ اور کہا: ”ہر ڈول کا معاوضہ ایک کھجور ہو گی۔“ انصاری نے شرط لگا لی کہ وہ کالی، سوکھی اور خراب کھجور نہیں لیں گے بلکہ عمدہ کھجور ہی لیں گے۔ انہوں نے (باغ کو) پانی دے کر اس کے عوض تقریباً دو صاع کھجوریں حاصل کر لیں اور انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14335، ومصباح الزجاجة: 865) (ضعیف جدا)» (سند میں عبداللہ بن سعید بن کیسان متہم بالکذب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467