🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب : معاملة النخيل والكروم
باب: کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ أَعْطَاهَا عَلَى النِّصْفِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پردے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2469]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو اسے نصف (پیداوار) کے عوض (کاشت کے لیے) دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1590، ومصباح الزجاجة: 868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/138) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں مسلم بن کیسان کوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥مسلم بن كيسان الضبي، أبو عبد الله، أبو حمزة
Newمسلم بن كيسان الضبي ← أنس بن مالك الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← مسلم بن كيسان الضبي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥علي بن المنذر الطريقي، أبو الحسن
Newعلي بن المنذر الطريقي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2469
افتتح رسول الله خيبر أعطاها على النصف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2469 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2469
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس قسم کے معاہدے کومساقاۃ کہتےہیں کہ باغ میں جو پھل پیدا ہو گا اس میں سے اتنا حصہ (مثلا:
آدھا یا تہائی)
کاشت کار کوملے گا۔
کھیتوں کےبارے میں یہی معاہدہ مزارعت کہلاتا ہے۔

(2)
غیر مسلموں کی جوزمین جنگ کے بعد مسلمانوں کے قبضے میں آئے وہ اسلامی سلطنت کی ملکیت ہوتی ہے۔
اسے آباد کرنے کے لیے مسلمانوں سے بھی معاہدہ کیا جا سکتا ہے غیر مسلموں سے بھی، تاہم وہ کاشت کرنے والے کی ملکیت نہیں بن جاتی۔

(3)
کاشت کار معاہدے کےمطابق حکومت کو پیداوار ادا کرے گا اوراپنا حصہ وصول کرے گا۔
اگر مسلمان کاشت کارکےحصے میں اتناغلہ آیا ہے جس پرزکاۃ فرض ہوتی ہے (بیس من یا زیادہ)
تووہ اس کی زکاۃ (عشر)
بھی ادا کرے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2469]

Sunan Ibn Majah Hadith 2469 in Urdu