🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : من باع رباعا فليؤذن شريكه
باب: جائیداد بیچتے وقت اپنے شریک کو خبر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2493
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ ، وَالْعَلَاءُ بْنُ سَالِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَيْعَهَا فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى جَارِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2493]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو اور وہ اسے بیچنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہمسائے کو (خریدنے کی) پیش کش کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الشفعة/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6131، ومصباح الزجاجة: 883) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں سماک ہیں، جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن سابق شواہد سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: باب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی یا شریک نہ خریدنا چاہے تب دوسروں کے ہاتھ بیچے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← سماك بن حرب الذهلي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة متقن
👤←👥العلاء بن سالم الواسطي، أبو الحسن
Newالعلاء بن سالم الواسطي ← يزيد بن هارون الواسطي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن سنان القطان، أبو جعفر
Newأحمد بن سنان القطان ← العلاء بن سالم الواسطي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2493
من كانت له أرض أراد بيعها يعرضها على جاره
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2493 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2493
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جب دو آدمی ایک زمین یا مکان کے مشترکہ طورپرمالک ہوں اورایک آدمی اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تواسے چاہیے کہ پہلے اپنے اس ساتھی کو بتائے جو اس کے ساتھ شریک ہے اگر وہ مناسب قیمت پرخریدنے پر رضا مند ہو تو ٹھیک ہے ورنہ کہہ وه دے کہ میں نہیں خریدنا چاہتا جسے چاہو فروخت کردو۔

(2)
اگر راستےجدا جدا ہیں اورشراکت یا حصہ نہیں بھی ہے محض ہمسائیگی ہے تو پھر بھی ہمسایہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ مکان یا زمین بیچتے وقت اسے بتایا جائےتاکہ وہ چاہے تو خرید لے۔

(3)
شفعہ کے قانون کی بنیاد باہمی ہمددردی پر ہے کیونکہ عموما ہمسائے کو اس قطعہ زمین کےخریدنے سے اجنبی کی نسبت زیادہ فوائدہ حاصل ہوتے ہیں جب کہ بیچنے والے کے لیے ہمسائے کے ہاتھ بیچنا یا اجنبی کے ہاتھ فروخت کرنا برابرہے لہٰذا اگر ہمسائے کو زائد فائدہ حاصل ہو جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2493]

Sunan Ibn Majah Hadith 2493 in Urdu