🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : اللقطة
باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2505
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ، ثُمَّ لَا يُغَيِّرْهُ وَلَا يَكْتُمْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنا لے، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2505]
حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کسی کی گم شدہ چیز ملے تو اسے چاہیے کہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے۔ پھر اس میں تبدیلی نہ کرے اور نہ اسے چھپائے۔ بعد ازاں اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ (مالک) اس کا زیادہ حق دار ہے ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے، دے دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/اللقطة 1 (1709)، (تحفة الأشراف: 11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162، 266) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چاندی اور سونے کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا تھیلا اور سربند پہچان لو، پھر ایک سال تک اس کو پوچھتے رہو، اگر کوئی اس کو نہ پہچانے تو خرچ کر ڈالو، لیکن وہ تمہارے پاس امانت ہو گی، جب اس کا مالک آئے،گرچہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد تو تم اس کو دے دو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عياض بن حمار المجاشعيصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عياض بن حمار المجاشعي
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد الله العامري، أبو العلاء
Newيزيد بن عبد الله العامري ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← يزيد بن عبد الله العامري
ثقة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1709
من وجد لقطة فليشهد ذا عدل أو ذوي عدل ولا يكتم ولا يغيب فإن وجد صاحبها فليردها عليه وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء
سنن ابن ماجه
2505
من وجد لقطة فليشهد ذا عدل أو ذوي عدل ثم لا يغيره ولا يكتم فإن جاء ربها فهو أحق بها وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء
بلوغ المرام
802
من وجد لقطة فليشهد ذوي عدل وليحفظ عفاصها ووكاءها ثم لا يكتم ولا يغيب فإن جاء ربها فهو أحق بها وإلا فهو مال الله يؤتيه من يشاء
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2505 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2505
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گواہ بنانے کا فائدہ یہ ہے کہ بعد میں کوئی شخص آ کر یہ دعوی نہ کرے کہ یہ چیز تومیری ہے لیکن اس میں خیانت کی گئی ہے مثلاً:
وہ تھیلی کی علامات پوری بتا دیتا ہے اور جب اسے وہ تھیلی دی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ رقم نکال لی گئی ہے تو گواہ اس کی تردید کریں گے کہ رقم اتنی ہی تھی۔

(2)
وہ اللہ کا مال ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس شخص کو یہ مل دیے دیا ہے اب (ایک سال کےبعد)
اس کےلیے اس کا استعمال جائز ہو گیا ہے۔

(3)
اسلام میں دیانت داری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
گم شدہ چیز مالک کو واپس کرنا دیانت داری کا مظہر ہے۔
اس میں دوسرے کی خیر خواہی بھی ہے اور حرام یا مشکوک رزق سے اجتناب بھی۔
یہ سب صفات ایک مومن میں ہونا ضرور ی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2505]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1709
لقطہٰ کی پہچان کرانے کا بیان۔
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللقطة /حدیث: 1709]
1709. اردو حاشیہ: گواہ بنانا نہ تو واجب ہے اور نہ ہر وقت ممکن ہی۔لیکن یہ انتہائی پسندیدہ صورت ہے تاکہ انسان شیطانی اکساہٹ سے محفوظ ہو جائے اور اس کے دل میں اس کے مالک بن جانے کا وسوسہ پیدا نہ ہو۔اس کے ذریعے سے کئی دوسری قباحتوں سے بھی بچا جاسکتا ہے جیسے اس کے ورثاء اس کو ادا کرنے سے انکار نہ کر سکیں یا کوئی شخص مال کی مقدار کےبارےمیں اس پر تہمت نہ لگا سکے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1709]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 802
لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی کی کوئی گمشدہ چیز کہیں گری پڑی ملے تو اسے چاہیئے کہ دو منصف و عادل آدمیوں کو اس پر گواہ بنا لے اور خود اس کے ڈاٹ اور سربند کو خوب یاد رکھے اور پھر اسے چھپانے اور غائب کرنے کی کوشش نہ کرے۔ پھر اگر اس چیز کا اصل مالک آ جائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے عنایت فرما دیتا ہے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے سوائے ترمذی کے اور ابن خزیمہ، ابن جارود اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 802»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، اللقطة، باب التعريف باللقطة، حديث:1709، وابن ماجه، اللقطة، حديث:2505، والنسائي في الكبرٰي كما في تحفة الأشراف:11013، وأحمد:4 /162، 266، وابن حبان(الموارد)، حديث:1169.»
تشریح:
اس حدیث کی رو سے جب لقطہ ملے تو اس وقت گواہ بنانا واجب ہے۔
مگر امام شافعی رحمہ اللہ کے ہاں مستحب ہے۔
اس کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ خدانخواستہ یکے بعد دیگرے دو آدمی آ کر اس کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور علامات اور نشانیاں بھی بتا دیتے ہیں تو اب یہ کس کو دے؟ اسی جھگڑے سے محفوظ رہنے کے لیے گواہ بنانا ضروری ہے کیونکہ پوری اور صحیح علامات تو صرف مالک اصلی ہی بتا سکے گا۔
اور یہ گواہوں کی موجودگی میں واپس دے کر اس جھگڑے کو ختم کر سکے گا۔
راویٔ حدیث:
«حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ» ‏‏‏‏ عیاض کے عین اور حمار کے حا کے نیچے کسرہ ہے۔
مشہور صحابی ہیں۔
نسبتاً تمیمی مجاشعی ہیں۔
انھوں نے بصرہ کو جائے سکونت قرار دے لیا تھا اور پچاس ہجری کے آخر تک زندہ رہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 802]

Sunan Ibn Majah Hadith 2505 in Urdu