🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : التقاط ما أخرج الجرذ
باب: چوہا جو مال سوراخ سے نکالے اس کے لینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2508
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّهَا كَرِيمَةَ بِنْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَتْهَا، عَنِ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْبَقِيعِ وَهُوَ: الْمَقْبَرَةُ لِحَاجَتِهِ، وَكَانَ النَّاسُ لَا يَذْهَبُ أَحَدُهُمْ فِي حَاجَتِهِ إِلَّا فِي الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَإِنَّمَا يَبْعَرُ كَمَا تَبْعَرُ الْإِبِلُ، ثُمَّ دَخَلَ خَرِبَةً، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ لِحَاجَتِهِ، إِذْ رَأَى جُرَذًا أَخْرَجَ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ آخَرَ حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ حَمْرَاءَ. قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَلَلْتُ الْخِرْقَةَ، فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا، فَتَمَّتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى أَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقُلْتُ: خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" ارْجِعْ بِهَا، لَا صَدَقَةَ فِيهَا بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا"، ثُمَّ قَالَ:" لَعَلَّكَ أَتْبَعْتَ يَدَكَ فِي الحُجْرِ" قُلْتُ: لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ. قَالَ: فَلَمْ يَفْنَ آخِرُهَا حَتَّى مَاتَ.
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ بقیع کے قبرستان کی طرف قضائے حاجت کے لیے نکلے، ان دنوں لوگ قضائے حاجت کے لیے دو دو تین تین دن بعد ہی جایا کرتے تھے، اور مینگنیاں نکالتے تھے، خیر وہ ایک ویرانے میں گئے اور قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک چوہے پر نظر پڑی جس نے سوراخ میں سے ایک دینار نکالا، پھر وہ اندر گھس گیا، اور پھر ایک دینار اور نکالا یہاں تک کہ اس نے سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کا کنارہ نکالا۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ ٹکڑا کھینچا تو اس میں ایک دینار اور ملا اس طرح کل اٹھارہ دینار پورے ہو گئے، انہیں لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی زکاۃ لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے جاؤ، اس میں زکاۃ نہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم نے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالا؟ میں نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی حق سے عزت فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: ان دیناروں میں اتنی برکت ہوئی کہ ان کی وفات تک آخری دینار ختم نہیں ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2508]
حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نے حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ وہ ایک دن قضائے حاجت کے لیے بقیع کے قبرستان کی طرف گئے۔ (اس زمانے میں) لوگوں کی حالت یہ تھی کہ آدمی دو تین دن میں ایک بار قضائے حاجت کے لیے جاتا، (تب بھی) اس طرح مینگنیاں کرتا جس طرح اونٹ مینگنیاں کرتے ہیں۔ وہ ایک کھنڈر میں چلے گئے۔ وہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چوہا نظر آیا، اس نے بل میں سے ایک دینار نکالا، پھر بل میں گیا اور ایک اور دینار نکال لایا حتیٰ کہ اس نے (ایک ایک کر کے) سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کا ٹکڑا نکال لایا۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کپڑے کو اٹھا کر دیکھا تو مجھے اس میں بھی ایک دینار ملا، یہ سب اٹھارہ دینار ہو گئے۔ میں انہیں لے کر (کھنڈر سے) باہر آ گیا اور انہیں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور ان دیناروں کے ملنے کا واقعہ عرض کیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی زکاۃ لے لیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے جاؤ، ان میں کوئی زکاۃ نہیں (کیونکہ بیس دینار کا نصف پورا نہیں ہوا۔) اللہ تجھے ان میں برکت دے۔ پھر فرمایا: شاید تو نے بل میں ہاتھ ڈالا ہو گا؟ میں نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت بخشی! راوی نے کہا: ان کی وفات تک وہ دینار ختم نہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج 40 (3087)، (تحفة الأشراف: 11550) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن یعقوب ضعیف اور قر یبة بنت عبداللہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3087)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المقداد بن الأسود الكندي، أبو الأسود، أبو معبد، أبو عمروصحابي
👤←👥ضباعة بنت الزبير القرشية
Newضباعة بنت الزبير القرشية ← المقداد بن الأسود الكندي
صحابي
👤←👥كريمة بنت المقداد الكندية
Newكريمة بنت المقداد الكندية ← ضباعة بنت الزبير القرشية
ثقة
👤←👥قريبة بنت عبد الله القرشية
Newقريبة بنت عبد الله القرشية ← كريمة بنت المقداد الكندية
مقبول
👤←👥موسى بن يعقوب الزمعي، أبو محمد
Newموسى بن يعقوب الزمعي ← قريبة بنت عبد الله القرشية
صدوق سيء الحفظ
👤←👥محمد بن عثمة البصري
Newمحمد بن عثمة البصري ← موسى بن يعقوب الزمعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن عثمة البصري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2508
لا صدقة فيها بارك الله لك فيها ثم قال لعلك أتبعت يدك في الحجر قلت لا والذي أكرمك بالحق
Sunan Ibn Majah Hadith 2508 in Urdu