سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : التقاط ما أخرج الجرذ
باب: چوہا جو مال سوراخ سے نکالے اس کے لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2508
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّهَا كَرِيمَةَ بِنْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَتْهَا، عَنِ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْبَقِيعِ وَهُوَ: الْمَقْبَرَةُ لِحَاجَتِهِ، وَكَانَ النَّاسُ لَا يَذْهَبُ أَحَدُهُمْ فِي حَاجَتِهِ إِلَّا فِي الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَإِنَّمَا يَبْعَرُ كَمَا تَبْعَرُ الْإِبِلُ، ثُمَّ دَخَلَ خَرِبَةً، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ لِحَاجَتِهِ، إِذْ رَأَى جُرَذًا أَخْرَجَ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ آخَرَ حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ حَمْرَاءَ. قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَلَلْتُ الْخِرْقَةَ، فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا، فَتَمَّتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى أَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقُلْتُ: خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" ارْجِعْ بِهَا، لَا صَدَقَةَ فِيهَا بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا"، ثُمَّ قَالَ:" لَعَلَّكَ أَتْبَعْتَ يَدَكَ فِي الحُجْرِ" قُلْتُ: لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ. قَالَ: فَلَمْ يَفْنَ آخِرُهَا حَتَّى مَاتَ.
مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ بقیع کے قبرستان کی طرف قضائے حاجت کے لیے نکلے، ان دنوں لوگ قضائے حاجت کے لیے دو دو تین تین دن بعد ہی جایا کرتے تھے، اور مینگنیاں نکالتے تھے، خیر وہ ایک ویرانے میں گئے اور قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک چوہے پر نظر پڑی جس نے سوراخ میں سے ایک دینار نکالا، پھر وہ اندر گھس گیا، اور پھر ایک دینار اور نکالا یہاں تک کہ اس نے سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کا کنارہ نکالا۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ ٹکڑا کھینچا تو اس میں ایک دینار اور ملا اس طرح کل اٹھارہ دینار پورے ہو گئے، انہیں لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کی زکاۃ لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جاؤ، اس میں زکاۃ نہیں، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم نے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالا؟ میں نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی حق سے عزت فرمائی“۔ راوی کہتے ہیں: ان دیناروں میں اتنی برکت ہوئی کہ ان کی وفات تک آخری دینار ختم نہیں ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2508]
حضرت ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نے حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ وہ ایک دن قضائے حاجت کے لیے بقیع کے قبرستان کی طرف گئے۔ (اس زمانے میں) لوگوں کی حالت یہ تھی کہ آدمی دو تین دن میں ایک بار قضائے حاجت کے لیے جاتا، (تب بھی) اس طرح مینگنیاں کرتا جس طرح اونٹ مینگنیاں کرتے ہیں۔ وہ ایک کھنڈر میں چلے گئے۔ وہ قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک چوہا نظر آیا، اس نے بل میں سے ایک دینار نکالا، پھر بل میں گیا اور ایک اور دینار نکال لایا حتیٰ کہ اس نے (ایک ایک کر کے) سترہ دینار نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کا ٹکڑا نکال لایا۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کپڑے کو اٹھا کر دیکھا تو مجھے اس میں بھی ایک دینار ملا، یہ سب اٹھارہ دینار ہو گئے۔ میں انہیں لے کر (کھنڈر سے) باہر آ گیا اور انہیں لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا اور ان دیناروں کے ملنے کا واقعہ عرض کیا اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی زکاۃ لے لیجیے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں لے جاؤ، ان میں کوئی زکاۃ نہیں (کیونکہ بیس دینار کا نصف پورا نہیں ہوا۔) اللہ تجھے ان میں برکت دے۔“ پھر فرمایا: ”شاید تو نے بل میں ہاتھ ڈالا ہو گا؟“ میں نے کہا: ”نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت بخشی!“ راوی نے کہا: ان کی وفات تک وہ دینار ختم نہ ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللقطة/حدیث: 2508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج 40 (3087)، (تحفة الأشراف: 11550) (ضعیف)» (سند میں موسیٰ بن یعقوب ضعیف اور قر یبة بنت عبداللہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3087)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3087)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2508
| لا صدقة فيها بارك الله لك فيها ثم قال لعلك أتبعت يدك في الحجر قلت لا والذي أكرمك بالحق |
Sunan Ibn Majah Hadith 2508 in Urdu
ضباعة بنت الزبير القرشية ← المقداد بن الأسود الكندي