یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب : من أظهر الفاحشة
باب: کوئی عورت فاحشہ معلوم ہو لیکن زنا ثابت نہ ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2559
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ، لَرَجَمْتُ فُلَانَةَ، فَقَدْ ظَهَرَ فِيهَا الرِّيبَةُ فِي مَنْطِقِهَا وَهَيْئَتِهَا، وَمَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو چکا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2559]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو گواہی قائم ہوئے بغیر رجم کرتا تو فلاں عورت کو ضرور رجم کر دیتا۔ اس کی بات چیت، چال ڈھال اور اس کے پاس آنے جانے والوں کی وجہ سے وہ بظاہر مشکوک نظر آتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5877، ومصباح الزجاجة: 905)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 31 (5310)، 36 (5316)، الحدود 43 (6856)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1497)، سنن النسائی/الطلاق 36 (3497)، مسند احمد (1/335، 357، 365) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی عورت کا فاحشہ ہونا معلوم ہو، تو بھی اس کو زنا کی حد نہیں لگا سکتے جب تک کہ اس کی طرف سے جرم کا اعتراف و اقرار نہ ہو، یا چار آدمیوں کی گواہی کا ثبوت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح وشطره الأول متفق عليه
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7238
| لو كنت راجما امرأة من غير بينة قال لا تلك امرأة أعلنت |
صحيح البخاري |
6855
| لو كنت راجما امرأة عن غير بينة |
صحيح مسلم |
3760
| لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمتها فقال ابن عباس لا تلك امرأة أعلنت |
سنن ابن ماجه |
2559
| لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمت فلانة فقد ظهر فيها الريبة في منطقها وهيئتها ومن يدخل عليها |
سنن ابن ماجه |
2560
| لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمتها |
مسندالحميدي |
529
| لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمتها |
Sunan Ibn Majah Hadith 2559 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي