🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : من حارب وسعى في الأرض فسادا
باب: ڈاکہ ڈالنے، رہزنی کرنے اور ملک میں فساد پھیلانے والوں کی حدود کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2579
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2579]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ والی اونٹنیاں لوٹ لیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، اور لوہے کی گرم سلائیوں سے ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المحاریة (تحریم الدم) 7 (4043)، (تحفة الأشراف: 17032) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے، یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ۔ بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بے رحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہ کرنا چاہئے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہئے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن محمد الدراوردي ← هشام بن عروة الأسدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن أبي الوزير الهاشمي، أبو إسحاق، أبو عمرو
Newإبراهيم بن أبي الوزير الهاشمي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← إبراهيم بن أبي الوزير الهاشمي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4042
قطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم
سنن النسائى الصغرى
4043
قطع النبي أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم
سنن ابن ماجه
2579
قطع النبي أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2579 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2579
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بیت المال کے جانوروں سے ضرورت مند مسلمان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

(2)
جن جانور کا گوشت کھانا جائز ہے ان کا پیشاب پینا علاج کے طور پر جائز ہے۔

(3)
مرتد کی سزا موت ہے۔

(4)
ان مجرموں نے متعدد جرائم کا ارتکاب کیا تھا:

(ا)
اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے۔

(ب)
ڈاکہ ڈالا تھا۔

(ج)
قتل کاارتکاب کیا۔

(د)
چرواہوں کی آنکھیں گرم سلائیوں سے پھوڑ کربری طرح قتل کیا تھا، اس لیے قصاص کے طور پر ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2579]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4042
اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں کو لوٹا تو آپ نے انہیں گرفتار کیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4042]
اردو حاشہ:
یہ رویات مندرجہ بالا واقعہ ہی کا اختصار ہے ورنہ آپ نے یہ سزا صرف اونٹنیاں لوٹنے پر نہ دی تھی۔ ویسے بالجبر ڈاکا ڈالنے والوں کے ایک سے زیادہ ہاتھ پائوں کاٹے جا سکتے ہیں جیسا کہ محاربہ والی آیت میں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4042]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4043
اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں لوٹ لیں، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4043]
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ روایت دو استادوں محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار (بندا) سے سنی ہے۔ الفاظ میں کچھ فرق ہے، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔ یہ الفاظ استاد محمد بن مثنیٰ کے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4043]

Sunan Ibn Majah Hadith 2579 in Urdu