پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب : تلقين السارق
باب: چور کو تلقین کرنا کہ تم نے چوری نہ کی ہو گی!۔
حدیث نمبر: 2597
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ يَذْكُرُ أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ فَاعْتَرَفَ اعْتِرَافًا وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ الْمَتَاعُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟" قَالَ: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ؟" قَالَ: بَلَى، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ" مَرَّتَيْنِ.
ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، اس نے اقبال جرم تو کیا لیکن اس کے پاس سامان نہیں ملا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہے“، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی“، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو «أستغفر الله وأتوب إليه» ”میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں“، تو اس نے کہا: «أستغفر الله وأتوب إليه» تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: «اللهم تب عليه» ”اے اللہ تو اس کی توبہ قبول فرما“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2597]
حضرت ابو امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور پیش کیا گیا، اس نے اعترافِ جرم کر لیا جب کہ اس کے پاس سامان نہ ملا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو نے چوری نہیں کی۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں (بلکہ کی ہے)۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے خیال میں تو نے چوری نہیں کی۔“ اس نے کہا: ”کیوں نہیں (بلکہ کی ہے)۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ! «أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“”اس نے کہا: «أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 8 (4380)، سنن النسائی/قطع السارق 3 (4881)، (تحفة الأشراف: 11861)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/293)، سنن الدارمی/الحدود 6 (2349) (ضعیف)» (سند میں ابو المنذر غیر معروف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4380) نسائي (4881)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4380) نسائي (4881)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 472
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أمية المخزومي، أبو أمية | صحابي | |
👤←👥أبو المنذر الغفاري، أبو المنذر أبو المنذر الغفاري ← أبو أمية المخزومي | مقبول | |
👤←👥إسحاق بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو نجيح إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أبو المنذر الغفاري | ثقة حجة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← إسحاق بن عبد الله الأنصاري | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥سعدان بن يحيى اللخمي، أبو يحيى سعدان بن يحيى اللخمي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سعدان بن يحيى اللخمي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4881
| قل أستغفر الله وأتوب إليه فقال أستغفر الله وأتوب إليه قال اللهم تب عليه |
سنن أبي داود |
4380
| ما إخالك سرقت قال بلى فأمر به فقطع وجيء به فقال استغفر الله وتب إليه فقال أستغفر الله وأتوب إليه فقال اللهم تب عليه |
سنن ابن ماجه |
2597
| ما إخالك سرقت قال بلى قال بلى فأمر به فقطع فقال النبي قل أستغفر الله وأتوب إليه قال أستغفر الله وأتوب إليه قال اللهم تب عليه |
بلوغ المرام |
1059
| ما إخالك سرقت " قال : بلى فأعاد عليه مرتين أو ثلاثا ، فأمر به فقطع وجيء به ، فقال : « استغفر الله وتب إليه |
Sunan Ibn Majah Hadith 2597 in Urdu
أبو المنذر الغفاري ← أبو أمية المخزومي