🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : الحد كفارة
باب: حد کا نفاذ گناہ کا کفارہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2603
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ حَدًّا، فَعُجِّلَتْ لَهُ عُقُوبَتُهُ، فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَإِلَّا فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے اگر کوئی ایسا کام کرے جس سے حد لازم آئے، اور اسے اس کی سزا مل جائے، تو یہی اس کا کفارہ ہے، ورنہ اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 10 (1709)، (تحفة الأشراف: 5090)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الایمان 11 (18)، مناقب الانصار43 (3892)، تفسیرسورةالممتحنة 3 (4894)، الحدود 8 (6784)، 14 (801)، الاحکام 49 (7213)، التوحید 31 (746)، سنن الترمذی/الحدود 12 (1439)، سنن النسائی/البیعة 9 (4166)، مسند احمد (5/314، 321، 333)، سنن الدارمی/السیر 17 (2497) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥شراحيل بن آده الصنعاني، أبو الأشعث
Newشراحيل بن آده الصنعاني ← عبادة بن الصامت الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← شراحيل بن آده الصنعاني
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2603
من أصاب منكم حدا فعجلت له عقوبته فهو كفارته وإلا فأمره إلى الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2603 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2603
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جرم پر دنیا میں اسلامی مل جانے سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے۔

(2)
ممکن ہے ایک آدمی مجرم ہو لیکن کسی کو اس کےجرم کا علم نہ ہو سکے یا عدالت میں اس پر جرم ثابت نہ ہو سکے تو اس شخص کے گناہ کی معافی یقنی نہیں۔

(3)
معاملہ اللہ کے سپر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے توبہ کی وجہ سے یا کسی بڑی نیکی کی وجہ سےاس کا یہ گناہ معاف ہوجائے اور اس طرح وہ آخرت کی سزا سے بچ جائے۔
اوریہ بھی ممکن ہےکہ اسے قبر میں یا میدان حشرمیں یا جہنم کی سزا برداشت کرنی پڑے اور اس کے بعد اسے معافی ملے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2603]