سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : الرجل يجد مع امرأته رجلا
باب: شوہر بیوی کے ساتھ اجنبی مرد کو پائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2605
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، قَالَ سَعْدٌ: بَلَى، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللعان 1 (1498)، سنن ابی داود/الدیات 12 (4532)، (تحفة الأشراف: 12699)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 19 (17)، الحدود 1 (7) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں ہے: میں اس سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا یہ کہنا بظاہر غیرت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو اس سے زیادہ غیرت ہے، اور اللہ تعالی کو مجھ سے بھی زیادہ غیرت ہے، اس پر بھی اللہ نے جو شریعت کا حکم اتارا اسی پر چلنا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3762
| إن وجدت مع امرأتي رجلا أأمهله حتى آتي بأربعة شهداء قال نعم |
سنن أبي داود |
4533
| لو وجدت مع امرأتي رجلا أمهله حتى آتي بأربعة شهداء قال نعم |
سنن أبي داود |
4532
| الرجل يجد مع امرأته رجلا أيقتله قال رسول الله لا قال سعد بلى والذي أكرمك بالحق قال النبي اسمعوا إلى ما يقول سيدكم |
سنن ابن ماجه |
2605
| الرجل يجد مع امرأته رجلا أيقتله قال رسول الله لا قال سعد بلى والذي أكرمك بالحق فقال رسول الله اسمعوا ما يقول سيدكم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2605 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2605
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بدکاری کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو جو شخص عین جرم کی حالت میں دیکھ لے تو اسے بھی یہ حق نہیں کہ انھیں قتل کردے۔
(2)
اس صورت میں اسےچاہیے کہ تین مردوں کی گواہی شریک کرے حتی کہ وہ چاروں انھیں جرم کی حالت میں دیکھ لیں۔
(3)
گواہی مکمل ہونے پرعدالت ایسے مرد یا عورت کوشرعی سزا (سوکوڑوں کی سزا)
دےگی۔
(4)
گواہی کا یہ نصاب مقررکرنےمیں یہ حکمت ہےکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنی ناراضی کی وجہ سےکسی کوقتل کردے اور بعد میں کہ دے میں نے اسے زنا کرتے دیکھا تھا۔
(5)
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کوملوث دیکھتا ہےاس کے لیے طلاق اور لعان کا راستہ موجود ہے لہٰذا قانون ہاتھ لینا اوربیوی کوقتل کردینا جائز نہیں ہے۔
(6)
حضرت سعد بن عبادہ کا کلام ان کی غیرت کا مظہر ہے اس لیےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےجذبہ غیرت کی تحسین فرمائی لیکن انہیں یہ اختیار نہیں دیا کہ مجرم کوخود ہی قتل کردیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
بدکاری کا ارتکاب کرنے والے مرد اور عورت کو جو شخص عین جرم کی حالت میں دیکھ لے تو اسے بھی یہ حق نہیں کہ انھیں قتل کردے۔
(2)
اس صورت میں اسےچاہیے کہ تین مردوں کی گواہی شریک کرے حتی کہ وہ چاروں انھیں جرم کی حالت میں دیکھ لیں۔
(3)
گواہی مکمل ہونے پرعدالت ایسے مرد یا عورت کوشرعی سزا (سوکوڑوں کی سزا)
دےگی۔
(4)
گواہی کا یہ نصاب مقررکرنےمیں یہ حکمت ہےکہ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنی ناراضی کی وجہ سےکسی کوقتل کردے اور بعد میں کہ دے میں نے اسے زنا کرتے دیکھا تھا۔
(5)
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کوملوث دیکھتا ہےاس کے لیے طلاق اور لعان کا راستہ موجود ہے لہٰذا قانون ہاتھ لینا اوربیوی کوقتل کردینا جائز نہیں ہے۔
(6)
حضرت سعد بن عبادہ کا کلام ان کی غیرت کا مظہر ہے اس لیےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کےجذبہ غیرت کی تحسین فرمائی لیکن انہیں یہ اختیار نہیں دیا کہ مجرم کوخود ہی قتل کردیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2605]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4533
جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4533]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4533]
فوائد ومسائل:
1: دوسری احادیث میں ہے، رسول اللہ ؐ نے فرمایا دیکھو سعد کس قدر غیرت مند ہے اور میں اس سے زیادی غیرت مند ہوں اور اللہ سب سے بڑھ کر غیرت والا ہے۔
(صحیح البخاري، النکاح، قبل الحدیث:5220، صحیح مسلم:اللعان، حدیث:1498)
2: اس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ صاحب ایمان کو اللہ کی حدود پر ٹھہرنے والا ہونا چاہیے نہ ان سے تجاوز کرنے والا۔
اسلام میں انسانی جان کی بہت زیادہ قدراہمیت ہے اور اس قسم کے حادثے میں بھی کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ چار گواہوں یا اقرر ہو تو تن رجم ہو گا۔
اگر گواہ ہوں، نہ عورت کا اقراربلکہ صرف خاوند کا دعوی ہو تو اس صورت میں رجم نہیں ہو گا، بلکہ لعان ہو گا۔
1: دوسری احادیث میں ہے، رسول اللہ ؐ نے فرمایا دیکھو سعد کس قدر غیرت مند ہے اور میں اس سے زیادی غیرت مند ہوں اور اللہ سب سے بڑھ کر غیرت والا ہے۔
(صحیح البخاري، النکاح، قبل الحدیث:5220، صحیح مسلم:اللعان، حدیث:1498)
2: اس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ صاحب ایمان کو اللہ کی حدود پر ٹھہرنے والا ہونا چاہیے نہ ان سے تجاوز کرنے والا۔
اسلام میں انسانی جان کی بہت زیادہ قدراہمیت ہے اور اس قسم کے حادثے میں بھی کسی کو قتل کرنے کی اجازت نہیں بلکہ چار گواہوں یا اقرر ہو تو تن رجم ہو گا۔
اگر گواہ ہوں، نہ عورت کا اقراربلکہ صرف خاوند کا دعوی ہو تو اس صورت میں رجم نہیں ہو گا، بلکہ لعان ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4533]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي