Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : ميراث أهل الإسلام من أهل الشرك
باب: مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2729
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، المغازي 48 (4283)، الفرائض 26 (6764)، صحیح مسلم/الفرائض 1 (1614)، سنن ابی داود/الفرائض 10 (2909)، سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، (تحفة الأشراف: 113)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض13 (10)، مسند احمد (5/200، 201، 208، 209)، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3041) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥عمرو بن عثمان الأموي، أبو عثمان
Newعمرو بن عثمان الأموي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي زين العابدين ← عمرو بن عثمان الأموي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← علي زين العابدين
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← محمد بن الصباح الجرجرائي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6764
لا يرث المسلم الكافر لا الكافر المسلم
صحيح البخاري
4283
لا يرث المؤمن الكافر لا يرث الكافر المؤمن
صحيح مسلم
4140
لا يرث المسلم الكافر لا يرث الكافر المسلم
جامع الترمذي
2107
لا يرث المسلم الكافر لا الكافر المسلم
سنن أبي داود
2909
لا يرث المسلم الكافر لا الكافر المسلم
سنن ابن ماجه
2730
لا يرث المسلم الكافر لا الكافر المسلم
سنن ابن ماجه
2729
لا يرث المسلم الكافر لا الكافر المسلم
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
390
لا يرث المسلم الكافر
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2729 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2729
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
کافر سے ہر غیر مسلم مراد ہے، خواہ وہ اہل کتاب (یہودی یا عیسائی)
ہو، کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہو، مثلاً:
ہندو، سکھ، بدھ، دہریہ، قادیانی اور بہائی وغیرہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2729]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2730
مسلمان اور کافر و مشرک ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے گھر میں ٹھہریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقیل نے ہمارے لیے گھر یا زمین چھوڑی ہی کہاں ہے؟ عقیل اور طالب دونوں ابوطالب کے وارث بنے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کچھ بھی ترکہ نہیں ملا اس لیے کہ یہ دونوں مسلمان تھے، اور عقیل و طالب دونوں (ابوطالب کے انتقال کے وقت) کافر تھے، اسی بناء پر عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ مومن کافر کا وارث نہیں ہو گا۔ اور اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2730]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ واقعہ حجۃ الوداع کے موقع پر پیش آیا۔ (صحیح البخاري، الجہاد، باب:
إذا أسلم قوم فی دارالحرب، ولهم مال وارضون فهی لهم، حدیث: 3058)
۔

(2)
جب ابوطالب کی وفات ہوئی اس وقت عقیل ؓ مسلمان نہیں تھے، اس لیے عقیل ؓ کو بھی وراثت میں سے حصہ ملا۔
حضرت علی اور حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہما مسلمان تھے، اس لیے انہوں نے اپنے والد ابوطالب کے وراثت سے حصہ نہ لیا۔
حضرت عقیل ؓ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔

(3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس واقعے سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ دارالحرب میں رہنےوالا اگر مسلمان ہو جائے تو وہ اپنے گھر اور زمین وغیرہ کا بدستور مالک رہے گا۔ (صحیح البخاري، الجہاد، باب إذا أسلم قوم فی دارالحرب.....، حدیث: 3058) 4۔

حافظ ابن حجر حمه الله بیان کرتے ہیں کہ حضرت عقیل ؓ نے یہ مکان فروخت کردیا تھا۔ (فتح الباری: 3؍571)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2730]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2107
مسلمان اور کافر کے درمیان وراثت باطل ہونے کا بیان۔
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفرائض/حدیث: 2107]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ مسلمان کسی مرنے والے کافر رشتہ دار کا وارث نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کافر اپنے مسلمان رشتہ دار کا وارث ہوگا،
جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2107]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4140
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان، کافر کا وارث نہیں ہو گا، اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بنے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4140]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔
ائمہ اربعہ اور جمہور فقہائے امت کے نزدیک مسلمان کافر کا وارث نہیں بنے گا،
لیکن حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے نزدیک اگر کافر کا کافر وارث موجود نہ ہو اور وہ دارالاسلام میں رہتا ہو،
تو پھر اس کا مال،
بیت المال کی بجائے،
اس کے قریبی مسلمان کو دے دیا جائے گا،
لیکن یہ موقف صریح حدیث کے منافی ہے،
اس لیے امت نے اس کو قبول نہیں کیا،
تو اگر جلیل القدر صحابہ کا قول،
صحیح حدیث کی موجودگی میں معتبر نہیں ہے،
تو کسی امام کا قول کیسے معتبر ہو سکتا ہے،
اس طرح کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا،
فقہائے امت کا اس پر اتفاق ہے،
ہاں اتنی بات ہے کہ کافر اگر تقسیم ترکہ سے پہلے مسلمان ہو جائے،
تو بعض صحابہ اور امام احمد کے نزدیک،
وہ وارث ہو گا،
لیکن ظاہرا ورثا کا ترکہ میں حق،
میت کی موت سے ثابت ہو جاتا ہے،
اس لیے جو مرتے وقت،
وارث نہیں بنے گا،
وہ بعد میں وارث نہیں بن سکے گا،
اس لیے حدیث کا یہی تقاضا ہے کہ اس کو وارث نہ مانا جائے،
امام ابو حنیفہ،
امام مالک،
امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے،
اور امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4140]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4283
4283. پھر آپ نے فرمایا: مومن، کافر کا وارث نہیں بنتا اور نہ کافر مومن کا وارث بنتا ہے۔ زہری سے کہا گیا: ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: عقیل اور طالب وارث ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے رویت کرتے ہوئے کہا: ہم کل کہاں اقامت کریں گے۔ یہ حجۃ الوداع کے وقت کہا تھا۔ البتہ یونس نے اپنی روایت میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں کیا اور نہ فتح مکہ ہی کا زمانہ کہا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4283]
حدیث حاشیہ:
عقیل اور طالب اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے۔
اس لیے ابو طالب کے وہ وارث ہوئے اور علی اور جعفر ؓ کو کچھ ترکہ نہیں ملا کیونکہ یہ دونوں مسلمان ہوگئے تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4283]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4283
4283. پھر آپ نے فرمایا: مومن، کافر کا وارث نہیں بنتا اور نہ کافر مومن کا وارث بنتا ہے۔ زہری سے کہا گیا: ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: عقیل اور طالب وارث ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے رویت کرتے ہوئے کہا: ہم کل کہاں اقامت کریں گے۔ یہ حجۃ الوداع کے وقت کہا تھا۔ البتہ یونس نے اپنی روایت میں حجۃ الوداع کا ذکر نہیں کیا اور نہ فتح مکہ ہی کا زمانہ کہا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4283]
حدیث حاشیہ:

ابوطالب کے چار بیتے تھے:
طالب،عقیل، جعفر اور علی۔
طالب اورعقیل کافرتھے۔
انھوں نے اپنے باپ کی جائیداد پر قبضہ کرلیا تھا اور حضرت جعفر اورحضرت علی ؓ مسلمان ہونے کی وجہ سے ابوطالب کے وارث نہ بن سکے۔

طالب غزوہ بدر میں ماراگیا اور عقیل متروکہ جائیداد فروخت کرتا رہاتھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عقیل نے ہمارے لیے کیا چھوڑا ہے، جہاں ہم اقامت کریں۔
اس طرح کا جواب آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دیا تھا جس کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔
(فتح الباري: 19/8۔
)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4283]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6764
6764. حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر کسی مسلمان ہی کا وارث بنتا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6764]
حدیث حاشیہ:
(1)
وراثت کے لیے ملت کا اتحاد شرط ہے اور دین کا اختلاف محرومی کا باعث ہے، اس لیے کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوگا۔
اس کی صورت اس طرح ہے کہ ایک مسلمان فوت ہوا، اس کے دو بیٹے تھے، ان میں ایک مسلمان اور دوسرا کافر، تو کافر مسلمان کی جائیداد کا وارث نہیں ہوگا اگرچہ تقسیم ترکہ سے پہلے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو جائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اللہ تعالیٰ کافروں کو مومنوں کے خلاف ہرگز کوئی راستہ نہیں دےگا۔
(النساء 4: 141)
اگر کافر کو مسلمان کا وارث بنایا جائے تو اسے مسلمان پر راہ مل جاتی ہے جو قرآن کے خلاف ہے۔
(2)
بہرحال کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اس امر پر تمام علماء کا اتفاق ہے، لیکن کافر کا وارث مسلمان بننے کے متعلق اختلاف ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان بیٹے کو اس کے یہودی باپ کا وارث بنایا تھا، لیکن ایسا کرنا صریح نص کے خلاف ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں صراحت ہے۔
اس کی موجودگی میں قیاس وغیرہ کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6764]