سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : الرجل يسلم على يدي الرجل
باب: نو مسلم کا وارث وہ ہے جس کے ہاتھ پر اس نے اسلام قبول کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2752
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، قَالَ:" هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 13 (2918)، سنن الترمذی/الفرائض20 (2112)، (تحفة الأشراف: 2052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/104، 103)، سنن الدارمی/الفرائض 34 (3076) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2112
| الرجل من أهل الشرك يسلم على يدي رجل من المسلمين فقال رسول الله هو أولى الناس بمحياه ومماته |
سنن أبي داود |
2918
| هو أولى الناس بمحياه ومماته |
سنن ابن ماجه |
2752
| هو أولى الناس بمحياه ومماته |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2752 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2752
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ بھی ولاء کی ایک صورت ہے کہ ایک غیر مسلم کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے۔
اس نو مسلم کے دوسرے رشتے دار غیر مسلم ہونے کی وجہ سے اس کے وارث نہیں ہوسکتے، اس لیے یہی اس کا وارث ہوگا۔
(2)
اگر نو مسلم کے دوسرے مسلمان وارث موجود ہوں تو وہی اس کا ترکہ لیں گے، البتہ اگر وہ اصحاب الفروض ہوں اور ا س کا کوئی عصبہ رشتے دار مسلمان نہ ہو تو مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کا عصبہ ہوکر وارث ہوگا۔
واللہ أعلم
فوائد و مسائل:
(1)
یہ بھی ولاء کی ایک صورت ہے کہ ایک غیر مسلم کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے۔
اس نو مسلم کے دوسرے رشتے دار غیر مسلم ہونے کی وجہ سے اس کے وارث نہیں ہوسکتے، اس لیے یہی اس کا وارث ہوگا۔
(2)
اگر نو مسلم کے دوسرے مسلمان وارث موجود ہوں تو وہی اس کا ترکہ لیں گے، البتہ اگر وہ اصحاب الفروض ہوں اور ا س کا کوئی عصبہ رشتے دار مسلمان نہ ہو تو مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کا عصبہ ہوکر وارث ہوگا۔
واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2752]
عبد الله بن موهب الهمداني ← تميم بن أوس الدارى