🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : الرجل يسلم على يدي الرجل
باب: نو مسلم کا وارث وہ ہے جس کے ہاتھ پر اس نے اسلام قبول کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2752
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، قَالَ:" هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ".
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 13 (2918)، سنن الترمذی/الفرائض20 (2112)، (تحفة الأشراف: 2052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/104، 103)، سنن الدارمی/الفرائض 34 (3076) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥تميم بن أوس الدارى، أبو رقيةصحابي
👤←👥عبد الله بن موهب الهمداني، أبو خالد
Newعبد الله بن موهب الهمداني ← تميم بن أوس الدارى
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن عمر القرشي، أبو محمد
Newعبد العزيز بن عمر القرشي ← عبد الله بن موهب الهمداني
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عبد العزيز بن عمر القرشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2112
الرجل من أهل الشرك يسلم على يدي رجل من المسلمين فقال رسول الله هو أولى الناس بمحياه ومماته
سنن أبي داود
2918
هو أولى الناس بمحياه ومماته
سنن ابن ماجه
2752
هو أولى الناس بمحياه ومماته
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2752 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2752
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ بھی ولاء کی ایک صورت ہے کہ ایک غیر مسلم کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے۔
اس نو مسلم کے دوسرے رشتے دار غیر مسلم ہونے کی وجہ سے اس کے وارث نہیں ہوسکتے، اس لیے یہی اس کا وارث ہوگا۔

(2)
اگر نو مسلم کے دوسرے مسلمان وارث موجود ہوں تو وہی اس کا ترکہ لیں گے، البتہ اگر وہ اصحاب الفروض ہوں اور ا س کا کوئی عصبہ رشتے دار مسلمان نہ ہو تو مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کا عصبہ ہوکر وارث ہوگا۔
واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2752]