🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : التوقي في الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ، وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ، فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟" قَالَ: قُلْنَا: لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ، قَالَ: لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ، إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ، فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالُوا: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا شَرِيكُكُمْ".
قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں، کہا: نہیں، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے: تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گا، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو (مارے شوق کے) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ۱؎، اور کہیں گے: یہ اصحاب محمد ہیں، تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 28]
حضرت قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں کوفہ روانہ فرمایا اور ہمیں رخصت کیا۔ (اس موقع پر) آپ ہمارے ساتھ چلتے چلتے مقام «صِرَارٍ» تک پہنچ گئے، تب فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کیوں تمہارے ساتھ چل کر آیا ہوں؟ ہم نے عرض کیا: (ہمارے) اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا حق سمجھتے ہوئے اور انصار کے حق (کی ادائیگی) کے خیال سے۔ فرمایا: بلکہ میں تو اس لیے تمہارے ساتھ چل کر آیا ہوں کہ میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا تھا۔ میں نے چاہا کہ میرے اس چلنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو۔ (تاکہ تمہیں یاد رہے کہ یہ وہ اہم نصیحت ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے اتنی دور ہمارے ساتھ آکر ہمیں کی تھی۔) تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینے قرآن کی وجہ سے اس طرح جوش مار رہے ہیں جس طرح ہنڈیا ابلتی ہے، جب وہ تمہیں دیکھیں گے تو گردنیں اٹھا کر تمہاری طرف متوجہ ہوں گے اور کہیں گے: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا، (جب تم اس پر عمل کرو گے تو) پھر میں بھی (اجر میں) تمہارا شریک ہوں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 28]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10625، ومصباح الزجاجة: 12)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 28 (687) (صحیح) (اس کی سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن حاکم کی سند کی متابعت سے یہ صحیح ہے، حاکم نے اس کو اپنی مستدرک میں صحیح الإسناد کہا ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تاکہ وہ تمہاری باتیں سن سکیں اور تم سے استفادہ کر سکیں۔ اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
وتابعه بيان في رواية سفيان بن عيينة (المستدرك 1/ 102) ولكن سفيان بن عيينة لم يصرح بالسماع وھو مدلس و روي الدارمي (285) عن قرظة بن كعب: ’’ أن عمر رضي اللّٰه عنه شيع الأنصار حين خرجوا من المدينة فقال: أتدرون لم شيعتكم ؟ قلنا: لحق الأنصار قال: إنكم تأتون قومًا تھتز ألسنتھم بالقرآن اھتزاز النخل،فلا تصدوھم بالحديث عن رسول اللّٰه ﷺ و أنا شريككم
قال: ’’فما حدثت بشئ و قد سمعت كما سمع أصحابي ‘‘ و سنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥قرظة بن كعب الأنصاري، أبو عمرو
Newقرظة بن كعب الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← قرظة بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥مجالد بن سعيد الهمداني، أبو سعيد، أبو عمير، أبو عمرو
Newمجالد بن سعيد الهمداني ← عامر الشعبي
ضعيف الحديث
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← مجالد بن سعيد الهمداني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 28 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث28
اردو حاشہ:
اس روایت سے منکرین حدیث، حدیث کی اہمیت کے گھٹانے پر استدلال کرتے ہیں، لیکن یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اگر صحیح بھی ہو تو اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 28]

Sunan Ibn Majah Hadith 28 in Urdu