🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : ثواب الطهور
باب: وضو (طہارت) کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ، فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُ، وَمَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً".
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تو اس کے گناہ ناک اور منہ سے نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کے کانوں سے بھی نکل جاتے ہیں، اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے دونوں پاؤں سے نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، اور اس کی نماز اور مسجد کی جانب اس کا جانا ثواب مزید کا باعث ہوتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 282]
حضرت عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرتا ہے اور (وضو کرتے ہوئے) کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے منہ اور ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کی آنکھوں کے پپوٹوں سے بھی نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر سے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ کانوں میں سے بھی نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر اس کی نماز اور اس کا مسجد کی طرف چل کر جانا مزید (درجات میں بلندی کا باعث) ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 282]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطہارة 85 (103)، (تحفة الأشراف: 9677)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 6 (30)، مسند احمد (4/348، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے مراد صغائر (گناہ صغیرہ) ہیں کیونکہ کبائر (گناہ کبیرہ) بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، اسی طرح حقوق العباد (بندوں کے حقوق) سے متعلق گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک ان کے حقوق کی ادائیگی نہ کر دی جائے، یا ان سے معاف نہ کرا لیا جائے، نیز اس حدیث سے گھر سے وضو کر کے مسجد میں جانے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي، أبو عبد اللهوالراجح أنه تابعي ثقة، مختلف في صحبته، مخضرم
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← عبد الرحمن بن عسيلة الصنابحي
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥حفص بن ميسرة العقيلي، أبو عمرو، أبو عمر
Newحفص بن ميسرة العقيلي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← حفص بن ميسرة العقيلي
صدوق يخطئ كثيرا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
103
إذا توضأ العبد المؤمن فتمضمض خرجت الخطايا من فيه إذا استنثر خرجت الخطايا من أنفه إذا غسل وجهه خرجت الخطايا من وجهه حتى تخرج من تحت أشفار عينيه إذا غسل يديه خرجت الخطايا من يديه حتى تخرج من تحت أظفار يديه إذا مسح برأسه خرجت الخطايا من رأسه حتى تخرج من
سنن ابن ماجه
282
من توضأ فمضمض واستنشق خرجت خطاياه من فيه وأنفه إذا غسل وجهه خرجت خطاياه من وجهه حتى تخرج من تحت أشفار عينيه إذا غسل يديه خرجت خطاياه من يديه إذا مسح برأسه خرجت خطاياه من رأسه حتى تخرج من أذنيه إذا غسل رجليه خرجت خطاياه من رجليه حتى تخرج من تحت أظفار
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
59
إذا توضأ العبد المؤمن فتمضمض خرجت الخطايا من فيه إذا استنثر خرجت الخطايا من أنفه إذا غسل وجهه خرجت الخطايا من وجهه حتى تخرج من تحت أشفار عينيه إذا غسل يديه خرجت الخطايا من يديه حتى تخرج من تحت أظفار يديه إذا مسح برأسه خرجت الخطايا من رأسه حتى تخرج من
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 282 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث282
اردو حاشہ:
(1)
جسم سے گناہوں کے نکل جانے کا مطلب گناہوں کی معافی ہے۔

(2)
وضو سے معاف ہونے والےگناہ صغیرہ گناہ ہیں۔
کبیرہ گناہ صرف توبہ سے معاف ہوتے ہیں یا پھر اللہ تعالی اپنے خاص فضل سے معاف کردے۔
اس کے علاوہ اگر گناہوں کا تعلق حقوق العباد سے ہوتو معافی کے لیے ان کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے یا صاحب حقوق معاف کردے۔

(3)
پپوٹوں اور ناخنوں سے گناہوں کے نکل جانے کا مطلب تمام گناہوں کی معافی ہے۔
گناہوں کو ظاہری میل کچیل سے تشبیہ دی گئی ہے جسم کے بعض حصوں سے میل کچیل دور کرنے کے لیے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے جب یہ بھی صاف ہوگئے تو باقی جسم یقیناً صاف ستھرا ہو چکا ہے۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وضو سے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں کوئی باقی نہیں رہتا۔
 واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 282]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 103
سر کے ساتھ کان کے مسح کا بیان اور کان کے سر کا حصہ ہونے کی دلیل۔
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے۔‏‏‏‏ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 103]
103۔ اردو حاشیہ:
➊ امام صاحب کا آخری جملے «قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ ……» سے مقصود یہ ہے کہ اس روایت میں میرے دو اساتذہ میں سے ایک، یعنی عتبہ بن عبداللہ نے «آن رسول الله» کہا: جب کہ دوسرے استاذ قتیبہ نے «أن النبي» کہا:، اگرچہ اس لفظی اختلاف کا سند یا متن حدیث پر ذرہ بھر بھی اثر نہیں پڑتا مگر محدثین کا یہ کمال حفظ و ضبط ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کے معمولی سے اختلاف کو بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ اس سے ان کی دیانت داری کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ رحمہم اللہ رحمہ واسعة۔
غلطیاں نکل جاتی ہیں۔ اس سے مراد غلطیوں کے اثرات ہیں کیونکہ گناہوں کے اثرات متعلقہ اعضاء میں جاگزین ہو جاتے ہیں۔ وضو کے ساتھ جس طرح جسم ظاہری نجاست اور میل کچیل سے پاک ہو جاتا ہے، اسی طرح اعضائے وضو گناہوں کے اثرات سے پاک ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً جسم ظاہری اور معنوی طور پر، یعنی میل کچیل اور گناہوں دونوں سے صاف ہو جاتا ہے۔
➌ اس حدیث میں سر اور کانوں کا مسح اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ حقیقتاً بھی کانوں کا مسح الگ نہیں ہوتا بلکہ سر والے پانی ہی سے کانوں کا مسح کیا جاتا ہے۔ اگرچہ امام شافعی رحمہ اللہ کانوں کے لیے الگ پانی لینے کے قائل ہیں مگر یہ صحیح حدیث کے خلاف ہے۔ گویا کان سر ہی میں داخل ہیں۔ اس مفہوم کی ایک صریح روایت بھی موجود ہے۔ «الاذنان من الرأس» کان سر میں شامل ہیں۔ [سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 134، و سنن ابن ماجه، الطھارة، حدیث: 443]
بعض لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ کانوں کا سامنے والا حصہ منہ میں داخل ہے، لہٰذا اسے منہ کے ساتھ دھویا جائے اور پچھلا حصہ سر میں داخل ہے، لہٰذا اس کا سر کے ساتھ مسح کیا جائے۔ اسی طرح بعض لوگ کانوں کو چہرے کی طرح دھونے کے قائل ہیں مگر ان کی بنیاد قیاس پر ہے۔ صحیح و صریح احادیث کے مقابلے میں قیاس کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ وہ مذموم ہے۔
➍ جس دلیل کی طرف امام صاحب نے باب میں اشارہ فرمایا ہے، وہ یہ لفظ ہیں: «خرجت الخطایا من رأسه حتٰی تخرج من أذنیه» انھی الفاظ میں سر کی غلطیوں کا کانوں سے نکلنا بتلایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کانوں کا حکم سر والا ہے، یعنی مسح۔
«نَافِلَةً» زائد یعنی رفع درجات کا سبب بن جائیں گے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 103]

الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 59
حضرت عبداللہ الصنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت مومن بندہ وضو شروع کرتا ہے پھر کلی کرتا ہے، نکل جاتے ہیں گناہ اس کے منہ سے۔ پھر جس وقت منہ دھوتا ہے نکل جاتے ہیں [موطا امام مالك: 59]
فائدہ: یعنی نماز کا ایک اہم مقصد گناہوں سے معافی اور پاکی حاصل کرنا ہے اور جب وہ گناہ وضو ہی سے ختم ہو گئے تو اب یہ مسجد کو جانا اور نماز پڑھنا محض درجات کی بلندی کے لیے ایک اضافی عمل کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، یہ مطلب قطعاََ نہیں کہ فرض نماز نفل بن جاتی ہے اس حدیث مبارکہ میں معاف ہونے والے گناہوں کی تعیین مذکور نہیں، اس بارے میں راجح بات یہ ہے کہ وضو ہو یا نماز، یا کوئی اور نیک عمل، ان سب سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، رہے کبیرہ گناہ تو وہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے: «الصَّلَوَاتُ الخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَينَهُنَّ إِذَا اجْتَتَبَ الْكَبَائِرَ» پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیانی گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ آدمی کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔ [صحيح مسلم: 233] البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لانے، ہجرت کرنے اور حج ادا کرنے سے بھی کبیرہ گناہ ختم ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم: 121] نیز اللہ اپنی رحمت سے بھی تمام گناہوں کو بخش دینے پر قادر ہے مذکورہ بالا متن والی حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح آنکھیں چہرے کا حصہ ہیں، انگلیاں اور ناخن ہاتھوں اور پاؤں کا حصہ ہیں، اسی طرح کان بھی سر کا حصہ ہیں، لٰہذا سر کے مسح کے لیے اور کانوں کے مسح کے لیے ایک ہی پانی کفایت کر جاتا ہے، بہر حال جس طرح وضو جسمانی طہارت کا باعث ہے اسی طرح روحانی طہارت و تزکیہ کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 59]

Sunan Ibn Majah Hadith 282 in Urdu