سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : تشييع الغزاة ووداعهم
باب: غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2824
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَكُفَّهُ عَلَى رَحْلِهِ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کو صبح یا شام رخصت کروں، اور اسے سواری پر بٹھاؤں، یہ میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2824]
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے کہ ایک صبح یا ایک شام اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو الوداع کروں اور اس کے سامان کی دیکھ بھال کروں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11296، ومصباح الزجاجة: 998) (ضعیف)» (ابن لہیعہ اور زبان بن فائد دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1189)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
زبان: ضعيف (د 1287)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
إسناده ضعيف
زبان: ضعيف (د 1287)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2824
| لأن أشيع مجاهدا في سبيل الله فأكفه على رحله غدوة أو روحة أحب إلي من الدنيا وما فيها |
Sunan Ibn Majah Hadith 2824 in Urdu
سهل بن معاذ الجهني ← معاذ بن أنس الأنصاري