Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : تشييع الغزاة ووداعهم
باب: غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2826
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنٍ حصين بن نمير ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَشْخَصَ السَّرَايَا يَقُولُ لِلشَّاخِصِ:" أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو جانے والے کے لیے اس طرح دعا کرتے، «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» میں تیرے دین، تیری امانت، اور تیرے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8427، ومصباح الزجاجة: 1000)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 80 (2600)، سنن الترمذی/الدعوات 44 (3438) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 16)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← نافع مولى ابن عمر
ضعيف الحديث
👤←👥الحصين بن نمير الواسطي، أبو محصن
Newالحصين بن نمير الواسطي ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥حبان بن هلال الباهلي، أبو حبيب
Newحبان بن هلال الباهلي ← الحصين بن نمير الواسطي
ثقة ثبت
👤←👥عباد بن الوليد المؤدب، أبو بدر
Newعباد بن الوليد المؤدب ← حبان بن هلال الباهلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3442
استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك
جامع الترمذي
3443
أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك
سنن أبي داود
2600
أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك
سنن ابن ماجه
2826
أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2826 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2826
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔
محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی رائے ہی أقرب إلے الصواب معلوم ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناء پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه مسند الإمام أحمد: 121، 119/8)
والصحيحة للألباني رقم: 16 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكور بشار عواد رقم: 2826)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2826]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3442
کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ۱؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے: «استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3442]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے رخصت کے وقت بھی مصافحہ ثابت ہوتا ہے،
معلوم نہیں لوگوں نے کہاں سے مشہورکر رکھا ہے کہ رخصت کے وقت مصافحہ ثابت نہیں۔

2؎:
میں تیرا دین،
تیری امانت،
ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں۔

نوٹ:
(سند میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن یزید مجہول راوی ہیں،
لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے،
ملاحظہ ہو:
الصحیحة رقم: 14، 16، 2485)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3442]