سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : ثواب الطهور
باب: وضو (طہارت) کا ثواب۔
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو قیامت کے دن کیسے پہچانیں گے جن کو آپ نے دیکھا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کے اثر کی وجہ سے ان کی پیشانی، ہاتھ اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9225، ومصباح الزجاجة: 117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/403، 451، 453) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات کی صریح علامت ہے کہ صحابہ کرام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت، ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں سمجھتے تھے، اور خود رسول اللہ کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا، ورنہ صحابہ یہ سوال کیوں کرتے اور آپ جواب یہ کیوں دیتے؟
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥زر بن حبيش الأسدي، أبو مطرف، أبو مريم زر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود | ثقة | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← زر بن حبيش الأسدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد هشام بن عبد الملك الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← هشام بن عبد الملك الباهلي | ثقة حافظ جليل |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
284
| غر محجلون بلق من آثار الطهور |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 284 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث284
اردو حاشہ: (1) (غُرٌّ) (اَغَرُّ)
كی جمع ہے جس سے مراد وہ جانور (گھوڑا وغیرہ)
ہوتا ہے جس کی پیشانی سفید ہو اور (مُحَجَّل)
وہ جانور ہوتا ہے جس کی ٹانگیں سفید ہوں (بُلُق)
اَبْلَق كی جمع ہے یعنی وہ گھوڑا جو کچھ سیاہ اور کچھ سفید ہو۔
اس قسم کا گھوڑا سیاہ گھوڑوں میں ممتاز ہوتا ہے اور دور سے پہچانا جاتا ہے۔
(2)
اس سے امت محمدیہ کا شرف ظاہر ہوتا ہے کیونکہ وضو کے اثر سے اعضائے وضو کا نورانی ہونا اس امت كا خاص امتياز ہے۔
(3)
اعضاء کا نورانی ہونا، وضو کا اثر فرمایا گیا ہے۔
گویا بےنمازی مسلمان اس امتیازی شرف سے محروم ہوں گے اور وہ غیر مسلموں سے ممتاز نہیں ہوسکیں گے۔
اس سے بڑھ کر بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امتی ہونے کا دعوی رکھنے والے کسی شخص کو پہنچاننے ہی سے انکار کردیں؟
كی جمع ہے جس سے مراد وہ جانور (گھوڑا وغیرہ)
ہوتا ہے جس کی پیشانی سفید ہو اور (مُحَجَّل)
وہ جانور ہوتا ہے جس کی ٹانگیں سفید ہوں (بُلُق)
اَبْلَق كی جمع ہے یعنی وہ گھوڑا جو کچھ سیاہ اور کچھ سفید ہو۔
اس قسم کا گھوڑا سیاہ گھوڑوں میں ممتاز ہوتا ہے اور دور سے پہچانا جاتا ہے۔
(2)
اس سے امت محمدیہ کا شرف ظاہر ہوتا ہے کیونکہ وضو کے اثر سے اعضائے وضو کا نورانی ہونا اس امت كا خاص امتياز ہے۔
(3)
اعضاء کا نورانی ہونا، وضو کا اثر فرمایا گیا ہے۔
گویا بےنمازی مسلمان اس امتیازی شرف سے محروم ہوں گے اور وہ غیر مسلموں سے ممتاز نہیں ہوسکیں گے۔
اس سے بڑھ کر بدنصیبی کیا ہو سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امتی ہونے کا دعوی رکھنے والے کسی شخص کو پہنچاننے ہی سے انکار کردیں؟
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 284]
حدیث نمبر: 284M
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ایسی ہی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 284M]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن إدريس الحنظلي، أبو حاتم محمد بن إدريس الحنظلي ← هشام بن عبد الملك الباهلي | أحد الحفاظ |
زر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود