سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : العبيد والنساء يشهدون مع المسلمين
باب: مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت۔
حدیث نمبر: 2856
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ:" غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، وَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى، وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى".
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی تھی، مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے ڈیروں میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2856]
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں سات جنگوں میں حصہ لیا۔ (صحابہ رضی اللہ عنہم کے جنگ کے چلے جانے پر) میں خیموں میں رہتی (سامان کی حفاظت کرتی)، ان کے لیے کھانا تیار کرتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجہاد 48 (1812)، (تحفة الأشراف: 18137)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 24 (324)، الحج 81 (1652)، سنن الدارمی/الجہاد 30 (2466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2856 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2856
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جہاد میں شریک ہوتی رہتی ہیں لیکن ایسا زیادہ تر پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہوا ہے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد میں عورتوں کے شریک ہونے کہ حوصلہ افزائی نہیں فرمائی۔
عورتوں کے لیے غنیمت میں باقاعدہ حصہ مقرر نہ کرنا بھی اسی مقصد کے لیے ہے۔
(2)
عورتیں جب محاذ پر موجود ہوں تب بھی انھیں جنگ میں براہ راست حصہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ ان کے احترام اور حجاب کے تقاضوں کے خلاف ہے، انھیں وہ کام کرنے چاہییں جن کے دوران میں وہ مردوں کے ساتھ اختلاط سے حتی الامکان محفوظ رہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جہاد میں شریک ہوتی رہتی ہیں لیکن ایسا زیادہ تر پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہوا ہے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد میں عورتوں کے شریک ہونے کہ حوصلہ افزائی نہیں فرمائی۔
عورتوں کے لیے غنیمت میں باقاعدہ حصہ مقرر نہ کرنا بھی اسی مقصد کے لیے ہے۔
(2)
عورتیں جب محاذ پر موجود ہوں تب بھی انھیں جنگ میں براہ راست حصہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ ان کے احترام اور حجاب کے تقاضوں کے خلاف ہے، انھیں وہ کام کرنے چاہییں جن کے دوران میں وہ مردوں کے ساتھ اختلاط سے حتی الامکان محفوظ رہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2856]
Sunan Ibn Majah Hadith 2856 in Urdu
حفصة بنت سيرين الأنصارية ← أم عطية الأنصارية