🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : العبيد والنساء يشهدون مع المسلمين
باب: مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2855
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ وَكِيعٌ: كَانَ لَا يَأْكُلُ اللَّحْمَ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ مَوْلَايَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَلَمْ يَقْسِمْ لِي مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأُعْطِيتُ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ سَيْفًا، فَكُنْتُ أَجُرُّهُ إِذَا تَقَلَّدْتُهُ".
محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے آبی اللحم (وکیع کہتے ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے) کے غلام عمیر رضی اللہ عنہما سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مالک کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد کیا، چونکہ میں غلام تھا لہٰذا مجھے مال غنیمت میں حصہ نہیں ملا، صرف ردی چیزوں میں سے ایک تلوار ملی، جب اسے میں لٹکا کر چلتا تو (وہ اتنی لمبی تھی) کہ وہ گھسٹتی رہتی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 152 (2730)، سنن الترمذی/السیر 9 (1557)، (تحفة الأشراف: 10898)، وقد أخرجہ: مسند احمد5/223)، سنن الدارمی/السیر 35 (2518) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس وجہ سے کہ تلوار لمبی ہو گی یا ان کا قد چھوٹا ہو گا لیکن امام جو مناسب سمجھے انعام کے طور پر ان کو دے، صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: غلام اور عورت کا کوئی حصہ معین تھا، جب وہ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان دونوں کا کوئی حصہ متعین نہ تھا مگر یہ کہ مال غنیمت میں سے کچھ ان کو دیا جائے، اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو رکھتے تھے، وہ دو زخمیوں کا علاج کرتیں اور مال غنیمت میں سے کچھ انعام ان کو دیا جاتا لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمير مولى آبي اللحمصحابي
👤←👥محمد بن زيد القرشي، أبو بكر
Newمحمد بن زيد القرشي ← عمير مولى آبي اللحم
ثقة
👤←👥هشام بن سعد القرشي، أبو سعيد، أبو عباد، أبو سعد
Newهشام بن سعد القرشي ← محمد بن زيد القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← هشام بن سعد القرشي
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2855 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2855
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  آبی اللحم کا مطلب ہے گوشت کھانے سے انکار کرنے والا۔
ان کا یہ نام اس لیے مشہور ہوا یہ زمانی اسلام سے پہلے بھی غیراللہ کے نام کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔
ان کا نام خلف بیان کیا گیا ہے۔ (تقریب التہذیب)

(2)
جہاد میں نابالغ لڑکے بھی شریک ہوسکتے ہیں اور غلام بھی۔

(3)
جن افراد کو مال غنیمت سے مقرر حصہ نہیں دیا جاتا انھیں بھی کچھ نہ کچھ انعام ضرور دینا چاہیے۔

(4)
تلوار زمین پر اس لیے لگتی تھی کہ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کا قد کم سن ہونے کی وجہ سے چھوٹا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2855]