سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب : الشرط في الحج
باب: حج میں شرط لگانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ:" مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنَ الْحَجِّ؟"، فَقَالَتْ: أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ، وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ، قَالَ:" فَأَحْرِمِي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ".
ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: ”پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے“؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ احرام باندھ لیں اور شرط کر لیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2936]
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی دادی حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا یا اپنی نانی حضرت سعدی بنت عوف رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ضباعہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: ”پھوپھی جان! آپ کو حج کرنے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں بیمار عورت ہوں اور راستے میں رک جانے (اور سفر جاری نہ رکھ سکنے) سے ڈرتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احرام باندھ لیجیے اور شرط لگا لیجیے کہ آپ وہیں احرام کھول دیں گی جہاں آپ کو رکاوٹ پیش آجائے گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15892، ومصباح الزجاجة: 1033)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/349) (صحیح)» (سند میں ابوبکر بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4 / 187)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2936
| أحرمي واشترطي أن محلك حيث حبست |
Sunan Ibn Majah Hadith 2936 in Urdu
أسماء بنت أبي بكر القرشية ← سعدي بنت عوف المرية