یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب : الدعاء بعرفة
باب: عرفات میں دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ، فَأُجِيبَ: إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الظَّالِمَ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ، قَالَ:" أَيْ رَبِّ، إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ"، فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ، فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: تَبَسَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ، أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟، قَالَ:" إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لِأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ".
عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے“، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3013]
حضرت عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات کے دن (وقوف کے دوران میں) اپنی امت کی بخشش کے لیے دعا فرمائی۔ (اللہ کی طرف سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا گیا: ”میں نے انہیں بخش دیا سوائے ظالم کے کہ میں اس سے مظلوم کا حق وصول کروں گا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت سے (اس کی مظلومیت کے بدلے میں نعمتیں) دے دے اور ظالم کو معاف کر دے۔“ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول نہ ہوئی۔ صبح کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں تھے، آپ نے دوبارہ دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول ہو گئی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یا مسکرا دیے۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! ایسے وقت آپ ہنسا نہیں کرتے تھے، تو (آج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس لیے ہنسے ہیں؟ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانتوں کو ہنساتا رکھے!“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے اور میری امت کو معاف کر دیا ہے، تو اس نے خاک لے کر اپنے سر پر ڈالنا شروع کر دی اور چلانے لگا: ہائے میری تباہی! ہائے خرابی! اس کی پریشانی (اور رونا پیٹنا) دیکھ کر مجھے ہنسی آ گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5140، ومصباح الزجاجة: 1053)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 168 (5234)، مسند احمد (4/14) (ضعیف)» (عبد اللہ بن کنانہ مجہول ہیں، اور ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 2603)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5234)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5234)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3013
| دعا لأمته عشية عرفة بالمغفرة فأجيب إني قد غفرت لهم ما خلا الظالم فإني آخذ للمظلوم منه قال أي رب إن شئت أعطيت المظلوم من الجنة وغفرت للظالم فلم يجب عشيته فلما أصبح بالمزدلفة أعاد الدعاء فأجيب إلى ما سأل أو قال تبسم فقال له أبو بكر وعمر بأبي أنت وأمي إن هذه |
Sunan Ibn Majah Hadith 3013 in Urdu
كنانة بن عباس السلمي ← العباس بن مرداس السلمي