سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. باب : الدفع من عرفة
باب: عرفات سے لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ قُرَيْشٌ:" نَحْنُ قَوَاطِنُ الْبَيْتِ، لَا نُجَاوِزُ الْحَرَمَ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ۱؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ”پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں (یعنی عرفات سے)“ اتاری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3018]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قریش کہتے تھے: ہم بیت اللہ کے پاس رہنے والے ہیں۔ ہم حرم (کی حدود) سے آگے نہیں جائیں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ﴾ [سورة البقرة: 199] ”پھر وہاں سے واپس آؤ جہاں سے (دوسرے) لوگ واپس آئیں۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16922، ومصباح الزجاجة: 1054) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ «حل» میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر عبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري | ثقة حافظ جليل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3018 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3018
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے لیے عرفات جانا ضروری ہے۔
(2)
شریعت میں اپنی طرف سے مسائل بنا لینا درست نہیں۔
(3)
حرم کے رہنے والوں کے لیے جو احکام دوسروں سے الگ ہیں، وہ واضح کردیے گئے ہیں، مثلاً:
حج تمتع کی قربانی یا اس کے متبادل کے طور پر دس روزے رکھنے کا حکم اہل حرم کے لیے نہیں۔ (البقرة2: 192)
فوائد و مسائل:
(1)
حج کے لیے عرفات جانا ضروری ہے۔
(2)
شریعت میں اپنی طرف سے مسائل بنا لینا درست نہیں۔
(3)
حرم کے رہنے والوں کے لیے جو احکام دوسروں سے الگ ہیں، وہ واضح کردیے گئے ہیں، مثلاً:
حج تمتع کی قربانی یا اس کے متبادل کے طور پر دس روزے رکھنے کا حکم اہل حرم کے لیے نہیں۔ (البقرة2: 192)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3018]
Sunan Ibn Majah Hadith 3018 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق