سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
74. باب : من قدم نسكا قبل نسك
باب: مناسک حج کی تقدیم و تاخیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 3050
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ يَوْمَ مِنًى، فَيَقُولُ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟، قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ؟، قَالَ: لَا حَرَجَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں“، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں“، دوسرا بولا: میں نے رمی شام کو کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بات نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3050]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ منیٰ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کیے جاتے تھے تو آپ فرماتے تھے: ”کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں۔“ ایک شخص نے آ کر کہا: ”میں نے ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ کسی نے عرض کیا: ”میں نے شام ہونے پر رمی کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 125 (1723)، 130 (1735)، سنن ابی داود/المناسک 79 (1983)، سنن النسائی/مناسک الحج 224 (3069)، (تحفة الأشراف: 6047)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/216، 258، 269، 291، 300، 311، 382) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمرہ کبری کو کنکری مارنا، ہدی کا جانور ذبح کرنا، بالوں کا حلق (منڈوانا) یا قصر (کٹوانا) پھر طواف افاضہ (طواف زیارت) (یعنی کعبۃ اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی) میں ترتیب افضل ہے مگر باب کی روشنی میں رمی، ذبح حلق اور طواف میں ترتیب باقی نہ رہ جائے تو دم لازم نہیں ہو گا، اور نہ ہی حج میں کوئی حرج واقع ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
84
| ذبحت قبل أن أرمي فأومأ بيده قال ولا حرج حلقت قبل أن أذبح فأومأ بيده ولا حرج |
صحيح البخاري |
6666
| لا حرج قال آخر حلقت قبل أن أذبح قال لا حرج ذبحت قبل أن أرمي قال لا حرج |
صحيح البخاري |
1721
| عمن حلق قبل أن يذبح ونحوه فقال لا حرج لا حرج |
صحيح البخاري |
1735
| لا حرج فسأله رجل فقال حلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج رميت بعد ما أمسيت فقال لا حرج |
صحيح البخاري |
1723
| رميت بعد ما أمسيت فقال لا حرج حلقت قبل أن أنحر قال لا حرج |
صحيح البخاري |
1734
| في الذبح والحلق والرمي والتقديم والتأخير فقال لا حرج |
صحيح مسلم |
3164
| الذبح والحلق والرمي والتقديم والتأخير فقال لا حرج |
سنن أبي داود |
1983
| لا حرج فسأله رجل فقال إني حلقت قبل أن أذبح قال اذبح ولا حرج أمسيت ولم أرم قال ارم ولا حرج |
سنن النسائى الصغرى |
3069
| لا حرج حلقت قبل أن أذبح قال لا حرج رميت بعد ما أمسيت قال لا حرج |
سنن ابن ماجه |
3050
| لا حرج لا حرج حلقت قبل أن أذبح قال لا حرج قال رميت بعد ما أمسيت قال لا حرج |
سنن ابن ماجه |
3049
| ما سئل رسول الله عمن قدم شيئا قبل شيء إلا يلقي بيديه كلتيهما لا حرج |
Sunan Ibn Majah Hadith 3050 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي